تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 73
مدّ ِنظر ہوتی ہے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ کلام کی بجائے تصویری زبان اختیار کرلیتا ہے۔فرض کرو اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان کرنا چاہتا ہے کہ گھبرائو نہیں دین کو تقویت حاصل ہوجائے گی اور نبی کا ایک مرید ایسا ہے جس کا نام عبدالقوی ہے تو اللہ تعالیٰ رؤیا یا کشف کی حالت میںعبد القوی اس کو دکھادے گا۔اب یہ ظاہر ہے کہ عبدالقوی کو دکھانے سے گو یہ مضمون بھی بیان ہوگیا کہ دین کو تقویت حاصل ہوگی مگر ساتھ ہی عبدالقوی کا دل بھی خوش ہوجائے گا کہ میںبھی اپنے نبی کی خواب میں آگیا ہوں یا مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کبھی ابوبکرؓ کو دیکھا یا عمرؓ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کا منشا محض ایک مضمون بیان کرنانہیں تھا بلکہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی استمالت قلب بھی مدّ ِنظر تھی۔اور اللہ تعالیٰ چاہتاتھا کہ وہ خواب سن کر خوش ہوجائیں کہ ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں آگئے ہیں۔پس بعض دفعہ مضمون بیان کرنے کے علاوہ زائد طور پر کسی مومن کی دلجوئی اور استمالت قلب بھی مدّ ِنظر ہوتی ہے جو تصویری زبان میں وحی نازل کرنے سے پوری ہوجاتی ہے۔پس تصویری زبان میں وحی کا نزول بے فائدہ نہیںہوتا بلکہ اس کے کئی اغراض ہوتے ہیں اور کئی فوائد ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ زائد طور پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔بے شک وہ فوائد مقصود بالذات نہیں ہوتے صرف ضمنی ہوتے ہیں مگر بہرحال وہ ضمنی فوائد تصویری زبان کے ذریعہ ہی ظاہر ہوسکتے ہیںلفظی کلام کے ذریعہ ظاہر نہیں ہوسکتے۔انہی فوائد کی وجہ سے بعض دفعہ اہم معاملات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصویری زبان میں دکھائے جاتے ہیں مگر اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اسے وحی لفظی میں دوبارہ بیان کردیا جاتا ہے گویا تصویری زبان میں بھی ایک نظارہ دکھادیا جاتا ہے اور کلامی زبان میں بھی اس کو بیان کردیا جاتا ہے۔اس طرح دونوں فوائد پیدا کردیئے جاتے ہیں۔وہ فوائد بھی جو کلام سے وابستہ ہوتے ہیں اور وہ فوائد بھی جو تصویری زبان سے وابستہ ہوتے ہیں۔اس کی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ معراج اور واقعہ اسراء ہیں کہ دونوں ذرائع سے ان کا اظہار کیا گیا۔واقعہ معراج کا حدیثوں میں بھی تفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے اور قرآن کریم نے بھی سورئہ نجم میں اس کو بیان کردیا ہے۔اسی طرح واقعہ اسراء تصویری زبان میں بھی آپ کو دکھایا گیا اور سورئہ بنی اسرائیل میں لفظی وحی میں بھی اس کا ذکر کردیا گیا۔قرآن کریم میں تو اس کا ذکر اس لئے کردیا گیا کہ یہ واقعہ وحی متلو میں آجائے اور نظارہ آپ کو اس لئے دکھایاگیا کہ جو زائد فوائد تصویری زبان کی وحی سے وابستہ ہوتے ہیں وہ بھی حاصل ہوجائیں۔مثلاً اگر غور کیاجائے تو واقعہ اسراء کا صرف اتنا مفہوم تھا کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء پر فضیلت عطا فرمائے گا۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نظارہ دکھایا گیا کہ جبریل آپ کے پاس براق لائے اور آپ اس پر سوار ہوکر بیت المقدس تک پہنچے اور پھر آپ نے لوگوں کے سامنے یہ