تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 72
حالت منام میں کوئی بات تصویری یا تعبیری زبان میں بتائی جاتی ہے اور اسے پڑھا نہیں جاسکتا اس لئے لفظی وحی سے اس کا مقام ادنیٰ سمجھا جاتا ہے اور یہی تمام صاحب تجربہ لوگوں کا قول ہے کہ وحی الٰہی میں سے اعلیٰ مقام وحی لفظی کو حاصل ہے کیونکہ وہ پڑھی جاتی ہے۔خواب چونکہ پڑھی نہیں جاتی یا کشف چونکہ پڑھا نہیں جاتا اس لئے اسے لفظی وحی کا جو وحی متلو ہوتی ہے مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ گائیں ذبح کی گئی ہیں(بخاری کتاب التعبیر باب اذا راٰی بقرا تنحر)۔اب ہم اس کو ویسی ہی قطعی اور یقینی وحی سمجھتے ہیں جیسے آپ پر لفظی وحی نازل ہوئی۔مگر سوال تویہ ہے کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر کس طرح آسکتا تھا۔کیا گائیوں کی تصویریں قرآن کریم میں بنادی جاتیں اور اس طرح بتایا جاتا کہ یہ نظارہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا؟ اور اگر تصویر ہی بنادی جاتی تو پھر بھی یہ سوال رہ جاتا کہ اس کو پڑھا کس طرح جائے؟ پس چونکہ اس وحی کو پڑھا نہیں جاسکتا اس لئے اسے دوسری وحیوں سے ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ہاں تصویری زبان کی وحی میں بھی بعض خاص فوائد ہوتے ہیں اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وحی کا کیا فائدہ ہے نبی پر ہمیشہ کلام ہی کیوں نازل نہیں ہوتا؟ کیوں اس پر کشف یا رؤیا میں بعض دفعہ حالات کا انکشاف کیا جاتا ہے؟ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ وحی کرنے میں بعض حکمتیں اس کا جواب یہ ہے کہ تصویری زبان کی وحی میں بھی بعض ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اس کی ضرورت سے استغناء ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔مثلاً ایک فائدہ تو اس وحی میں یہ ہے کہ گو کلام میں بھی اجمال کو مدّ ِنظر رکھا جاسکتا ہے مگر تصویری زبان میں تو بعض دفعہ ایسا اجمال ہوتا ہے جو کسی فقرہ میں بھی نہیں ہوسکتا۔اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ اگر رؤیا یا کشف کی حالت میں کسی کی صورت آنکھوں کے سامنے پھرادی جائے اس کے ماتھے پر شکن پڑے ہوئے ہوں اور دس بیس مختلف قسم کے جذبات اس کے چہرہ سے عیاں ہورہے ہوں تو یہ نظارہ ایک ساعت میں اسے دکھایا جاسکتا ہے۔لیکن اگر انہی جذبات کو الفاظ کی صورت میں اد اکیا جائے تو خواہ کیسے بھی مجمل الفاظ ہوں اور کس قدر اختصار کو ملحوظ رکھا گیا ہو پھر بھی دس پندرہ فقروں میں وہ مضمون ادا ہوگا اور ممکن ہے پھر بھی کوئی خامی رہ جائے۔پس ایسے مواقع پر جب اجمال در اجمال صورت میں اللہ تعالیٰ کوئی بات بتانا چاہتا ہو اور الفاظ سے زیادہ بہتر اور مؤثر پیرایہ میں قلیل سے قلیل وقت میں کوئی بات اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ تصویری زبان میں وحی نازل کرتا ہے ایک نظارہ آنکھوں کے سامنے پھرا دیتا ہے اور اس طرح وہ باتیں جو دس بیس فقروں کی محتاج ہوتی ہیں آن کی آن میں انسان پر منکشف ہوجاتی ہیں۔اسی طرح تصویری زبان میں وحی نازل کرنے کے اور بھی کئی فوائد ہوتے ہیں مثلاً بعض دفعہ کسی مومن بندے کی استمالت قلب