تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 71
بعض لوگوں کا وحی و الہام میں غلط طور پر امتیاز کرنا وہ کئی جگہ لکھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کہا اور پھر اس وحی کے معین الفاظ ان کی کتابوں میں درج ہوتے ہیں مگر باوجود لفظوں میں وحی نازل ہونے کے وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم پر وحی نازل ہوئی ہے بلکہ وہ اس کا نام الہام رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اِنَّ الْوَحْیَ مِنْ خَوَاصِ الْاَنْبِیَاءِ الْمُرْسَلِیْنَ وَالْاِلْھَامُ مِنْ خِوَاصِ الْوَلَایَۃِ (وَالثَّانِیْ) اِنَّ الْوَحْیَ مَشْـرُوْطٌ بِالتَّبْلِیْغِ۔یعنی وحی کا نزول خاص نبیوں سے جو مرسل ہو تعلق رکھتا ہے اور الہام ولایت کی خصوصیات سے ہے۔دوسرے وہ کہتے ہیں کہ وحی کا لفظ اسی کلام کے ساتھ مخصوص ہے جسے انہی الفاظ میں لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہو۔اس تشریح کے مطابق اگر ان پر لفظی کلام نازل ہو تو وہ اسے الہام کہہ دیتے ہیں۔اگر آنکھوں دیکھا نظارہ ہو تو وہ اسے کشف کہہ دیتے ہیں۔اور اگر حالت منام میں تصویری زبان میں کوئی نظارہ دکھایا جائے تو وہ اسے رؤیا کہہ دیتے ہیں۔بہرحال اپنے مذاق کے مطابق انہوں نے اس کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ان کے نزدیک وحی کے معنے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا وہ قطعی اور یقینی کلام جو انبیا ء پر نازل ہوتا ہے اور الہام کے معنے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا کسی غیر نبی پر لفظی کلام کی صورت میں اپنا منشا ظاہر کرنا۔چونکہ اس شق کو نہ وہ رؤیا میں شامل کرسکتے تھے نہ کشف میں کیونکہ اس کے ساتھ کوئی نظارہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف وہ اس کو وحی بھی قرار نہیںدے سکتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک وحی صرف اسی کلام کو کہا جاسکتا ہے جو انبیا ء پر نازل ہو۔اس لئے انہوںنے اس کا ایک نیا نام یعنی الہام رکھ دیا تاکہ نبی اور غیر نبی پر نازل ہونے والے کلام میں ایک امتیاز قائم ہوجائے۔بہرحال چونکہ وراء حجاب کلام میں غلطی کا زیادہ احتمال ہوتا ہے اور اس کے بیان کرنے میں انسان کو اپنے الفاظ اختیار کرنے پڑتے ہیں اس لئے پہلی قسم کی دونوں وحیوں یعنی حقیقی بلا واسطہ وحی اور حقیقی بالواسطہ وحی سے ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔یہاں تک کہ بعض لوگ جیسا کہ میں بتاچکا ہوں اسے وحی کے لفظ سے موسوم ہی نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں ہم نے خواب میں ایسا دیکھا ہے یا ہم نے کشف میں فلاں نظارہ دیکھا ہے۔پھر خواب یا کشف کا نظارہ اس لئے بھی ادنیٰ سمجھا جاتا ہے کہ خواب یا کشف وحی متلو میں نہیں آسکتا۔اعلیٰ سے اعلیٰ وحی متلو وحی ہے اور تصویری زبان کی وحی متلو نہیں ہوسکتی۔متلو وحی وہ ہوتی ہے جسے پڑھا جاسکے مگر خواب یا کشف کی صورت میں جب کوئی بات بتائی جائے تو وہ پڑھی نہیں جاسکتی۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان ایک نظارہ دیکھ لے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ اس نظارہ کو وہ پڑھ سکے یا دوسروں کو پڑھا سکے۔وہ اس نظارہ کی کیفیت کو اپنے الفاظ میں بیان کرسکتا ہے مگر یہ نہیں کرسکتا کہ کشف یا خواب کو پڑھ کر سنادے۔پڑھ کر وہی چیز سنائی جاسکتی ہے جو کہ الفاظ کی شکل میں ہو نہ کہ نظارہ کی شکل میں۔پس وہ وحی جو مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ہوتی ہے چونکہ اس میں کشفی طور پر ایک نظارہ دکھایا جاتا ہے یا