تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 65
مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمیں کوئی مجبوری بھی پیش نہ آئے اور ہم قرآن کریم کے استعمال کو کلی طور پر نظر انداز کرکے ان معنوں کو لے لیں جو قرآن کریم نے کسی ایک جگہ بھی نہیں کئے۔مفسرین کی وَرَآ ئِ حِجَابٍ کلام کرنے کی غلط تشریح مفسرین کی یہ تشریح کہ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ سے مراد موسیٰ کا کلام ہے۔یہ بھی کسی رنگ میں قابل قبول نہیں سمجھتی جاسکتی۔کیونکہ اِلَّا وَحْيًا کے بعد اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ کے معنے اگر ہم موسٰی کے کلام کے کریں تو اس کے معنے یہ بنیں گے کہ موسٰی پر وحی نہیں ہوئی حالانکہ موسٰی کا کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے سب سے مقدم وحی ہے۔جسے کسی صورت میں بھی دائرہ وحی سے خارج نہیں کیاجاسکتا۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ خود یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ اِنْقَطَعَ الْوَحْیُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّـرَاتُ رُؤْیَا الْمُؤْمِنِ۔وحی منقطع ہوگئی ہے صر ف مبشرات باقی رہ گئے ہیں جس سے مراد وہ سچے رؤیا ہیں جو مومن کو دکھائے جاتے ہیں۔یہ حدیث بھی بتاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کو اوّل درجہ دیا ہے اور منام کو دوسرا درجہ۔اگر جیسا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے منام کا نام ہی وحی ہوتا تو پھر بجائے یہ کہنے کے کہ اِنْقَطَعَ الْوَحْیُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّـرَاتُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اِنْقَطَعَ الْکَلَامُ وَرَایَٔ الْـحِجَابِ وَبَقِیَ الْوَحْیُ۔وراء حجاب اللہ تعالیٰ جو کلام کیا کرتا تھا وہ منقطع ہوچکا ہے اب صرف وحی باقی رہ گئی ہے جس سے مراد خوابیں وغیرہ ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنْقَطَعَ الْوَحْیُ کہنے کے بعد بَقِیَتِ الْمُبَشِّـرَاتُ فرمایا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی وحی کے معنے محض منام کے نہیں ہیں۔پس ان کے معنے بالبداہت باطل اور قرآنی محاورہ کے خلاف ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وحی کے معنے جہاں اشارہ، رمز اور تحریر کے ہیں وہاں ایسے کلام کے بھی ہیں جو دوسروں سے مخفی رکھ کر کیا جائے۔چنانچہ لغت سے یہ امر ثابت کیا جاچکا ہے کہ وحی کے معنے اشارہ، رمز اور تحریر کے بھی ہیں اور ایسے کلام کے بھی ہیں جو دوسروں سے مخفی رکھ کر کیا جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں وحی کا لفظ زیادہ تر مؤخر الذکر معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے پہلے معنے بہت کم استعمال ہوئے ہیں۔مثلاً منام کے معنوں میں تو قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی وحی کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔رمز، اشارہ یا تحریر کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے مگر صرف ایک جگہ یعنی حضرت زکریاؑ والی مثال میں رمز کے معنوں میں یا مکھی والی مثال میں تسخیرکے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔باقی کسی جگہ بھی اشارہ، رمز، تحریر یا تسخیر وغیرہ کے معنے نہیں آئے حالانکہ یہ لفظ قرآن کریم میں ستر۷۰ جگہ استعمال ہوا ہے۔