تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 55

بے تحاشا اپنا سر مارتا اور کہتا خدایا اب یہ سورج نہ ڈوبے جب تک آتھم نہ مرجائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ چیخیں مار مار کر انہوں نے آسمان سر پر اٹھالیا ہے اگر جھوٹے ہوں گے تو ہم ہوں گے ان کو کس بات کا فکر ہے۔اب دیکھو جماعت کے لوگ گھبرارہے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں تھی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے صرف کلام سنا تھا ملائکہ کے نزول کی وجہ سے جو ثباتِ قلب عطا کیا جاتا ہے وہ ان کو حاصل نہیں تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلب کو غیر معمولی ثبات حاصل تھا اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ چیخ و پکار بے معنی بات ہے جس خدا کا کلام مجھ پر نازل ہوا ہے وہ اپنے کلام کو آپ پورا کرے گا اور اگر کسی شرط کی وجہ سے وہ ٹل جائے گا تب بھی کیا ہوا انذاری پیشگوئیوں کے متعلق جو سنت چلی آرہی ہے بہرحال اسی کے مطابق ہوگا اس لئے گھبراہٹ اور فکر کی کوئی بات نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ خواہ وہ بلا واسطہ نازل ہو فرشتوں کا آنا ضروری ہوتا ہے۔مگر یہ خیال کرلینا کہ ہر کلام کے ساتھ فرشتہ آکر یہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں بات پہنچاتا ہوں بالکل غلط ہے۔حدیثوں میں بھی صرف پانچ سات ایسی مثالیں مل سکتی ہیں جن میں اَ تَانِیْ جِبْـرِیْلُ کے الفاظ آتے ہوں مگر اور کسی جگہ یہ ذکر نہیں آتا یا رمضان کے متعلق آتا ہے کہ ان ایام میں جبریل آتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کریم کی تلاوت کرتے مگر یہ صورت بالکل اور ہے۔اس میں جبریل کی حقیقت محض ایک سامع کی ہوتی تھی اور جبریل کا آنا اس لئے ضروری تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن کریم کا ہرلفظ یاد رکھنا ضروری تھا۔باقی لوگ اگر قرآن کریم پڑھنے میں کوئی غلطی کرتے تو اور لوگ اس کی اصلاح کرسکتے تھے لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غلطی کرتے تو لوگ کس طرح درست کرتے وہ سمجھتے کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی رنگ میں کلام نازل ہوا ہے یا پہلے کلام میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جبریل کو سامع بنادیا تاکہ اگر تلاوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی غلطی ہوجائے تو جبریل آپ کو بتادیں اور آپ اس کی اصلاح کرلیں۔پس یہ صورت بالکل اور ہے اس سے یہ استدلال نہیں ہوسکتا کہ ہر کلام کے ساتھ اس رنگ میں فرشتے کا نازل ہونا ضروری ہے کہ وہ آکر یہ کہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فلاں بات آپ کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ایسا طریق صرف بعض الہامات میں اختیار کیا جاتا ہے باقی الہامات کے ساتھ فرشتوں کا نزول صرف اتنا مفہوم رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام فرشتوں کی حفاظت میں نازل فرماتا ہے۔