تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 566
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن کی وجہ سے بعض دفعہ دادا سے کھیلتے ہو ئے ان کے کندھوں پر چڑھ جاتے۔آپ کے بیٹے سرخ سرخ آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے مگر حضرت عبد المطلب فرماتے خبردار میرے اس بچے کو بری نگاہ سے نہ دیکھنا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بھی ایسالمحہ نہیں آیا کہ جب آپ کو اپنے یُتم کا احساس پیدا ہوا ہو۔جب حضرت عبد المطلب فوت ہوئے آپؐکی عمر اس وقت آٹھ نو سال کی تھی(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام وفاۃ عبد المطلب)۔وفات سے کچھ دیر پہلے انہوں نے اپنے بیٹے ابو طالب کو بلایا اور فرمایا میں تم پر دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ اعتبار کرتا ہوں۔یہ میری امانت ہے اسے اپنے بچوں کی طرح پالنا، دیکھنا اس کا دل میلا نہ ہو۔ابوطالب نےبھی اپنے عہد کو نباہا۔آپ اپنے بچوں کو اپنے بچے نہیں کہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بچہ کہا کرتے اور آپ سے بہت پیا رکیا کرتے تھے۔تاریخ بتاتی ہے کہ آپؐکوہ وقار تھے آپ کی چچی کو تو آپ سےا تنی محبت نہیں تھی اور نہ ہی آپ کے داد ا نے اسے آپ کے متعلق کوئی وصیت کی تھی اور نہ ہی چچی کا رشتہ کوئی خونی رشتہ ہوتا ہے۔لیکن تاریخ سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کی چچی نے آپ پر کبھی کوئی سختی کی ہو آپ کی چچی جب گھر میں کوئی چیز بچو ں میں تقسیم کرتیں تو سب سے پہلے اپنے بچوں کو دیتیں شاید اس لئے کہ وہ چھوٹے تھے۔اس وقت سب بچے اپنی ماں سے چمٹ جاتے اور کہتے ہمیں بھی دو ہمیں بھی دو۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف بیٹھے رہتے اور اس شور میں حصہ نہ لیتے تھے(السیرۃ الـحلبیۃ ذکر وفاۃ عبد المطلب وکفالۃ عمہٖ)۔بعض دفعہ ایسے موقع پر ابو طالب بھی آجاتے تھے آپ کو ایک طرف بیٹھا ہوا دیکھ کر ابو طالب خیال کرتے کہ شاید اس بچہ کا خیال ہے کہ میرا ا س گھر میں کوئی حصہ نہیں۔گو آپ کا اس طرح بیٹھنا وقار کی وجہ سے تھا جو بچپن سے آپ کو حاصل تھا۔بہر حال ابو طالب کے دل میں محبت جوش مارتی اور آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر آگے لاتے اور کہتے تم نے میرے بچہ کو اب تک کچھ نہیں دیا۔ابو طالب ہمیشہ آپؐکو اپنابچہ ہی کہتے تھے۔اس حالت میں آپ کویُتم کا احساس کس طرح ہو سکتا تھا۔اگر کوئی احساس ہو سکتا تھا تو یہی کہ میرے رشتہ داروں نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔خواہ ان سے وہ سلوک خدا نے ہی کروایا تھا لیکن آپ تو یہ سمجھتے تھے کہ جس گھر میں مَیں جاتا ہوں وہ میرے ساتھ محبت اور پیا ر سے پیش آتے ہیں اور میرے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں۔غرض ایسا موقع کوئی آیا ہی نہیں کہ آپ کے اندر یُتم کااحساس پیدا ہوسکتا ہو۔پس یُتم کے احساس کی وجہ سے یہ تعلیم پیدا نہیں ہوئی کہ اسے انتقامی کہا جائے یا نفسیاتی۔لیکن اگر بفرض محال اسے نفسیاتی بھی مان لیا جائے تو پھر یہ اصلاحی تھی انتقامی نہیں تھی۔اس صورت میں یہ کہا جائے گا آپ نے خیال کیا کہ میرے رشتہ دار