تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 565

آنے والی عورتوں میں سے ایک حلیمہ بھی تھیں۔آپ غریب خاندان کی فرد تھیں۔آپ اس لئے مکہ آئی تھیں کہ کسی مال دار کا بچہ مل جائے تو پال پوس کر اچھا انعام حاصل کریں۔آپ حضرتؐکی والدہ کے پاس بھی گئیں انہوں نے ان کو سب حالات ٹھیک ٹھیک بیان کر دیئے جس پر وہ مایوس ہو کر دوسرے بچہ کی تلاش میں چلی گئیں لیکن چونکہ بچہ والے بھی دائیوں سے پوچھتے تھے کہ کیا وہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔کیونکہ اگر وہ خود کھاتے پیتے نہ ہوں تو بچہ کی پرورش اچھی طرح نہیں کر سکتے لیکن حلیمہ چونکہ خود بھی غریب تھیں مکہ کی کسی عورت نے ا ن کو اپنا بچہ دینا پسند نہ کیا۔غرض ایک طرف آپ کو یتیم ہونے کی وجہ سے ہر دائی ردّ کرتی گئی اور دوسری طرف حلیمہ کو غریب ہو نے کی وجہ سے سب گھر ردّ کرتے گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ سارا دن پھر کر اور ناکام رہ کر حلیمہ آخر آپؐکی والدہ کے پاس آئیں اور کہا کہ لاؤ بچہ ہم اسے پالیں گے چونکہ دوسری دائیاں آپؐکو ردّ کر چکی تھیں آپؐکی والدہ نے بھی اس تجویز کو پسند کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلیمہ خوش قسمت، حلیمہ جس کی قسمت میں ایک تاریخی وجود ہونا لکھا تھا کی گود میں ڈال دیئے گئے۔یہ ایک الٰہی تدبیر تھی۔اگر آپ کو دائی نہ ملتی اور بچپن میں کچھ سال گذارنےکے لئے آپ کوکسی گاؤں میں نہ بھیجا جاتا تب تو ہو سکتا تھا کہ آپ کے اندر یُتم کا خیال پیدا ہو تا۔آپ دوسرے بچوں کو دیکھتے کہ وہ مکہ سے باہر گاؤں میں رہے ہیں اچھے ماحول میں رہے ہیں۔ان کی زبان اچھی ہے، ان کی صحتیں اچھی ہیں تو خیال کرتے کہ مجھے بھی کوئی پچپن میں گاؤں بھیجتا، میں بھی ورزش کرتا، دودھ پیتا تو میری بھی صحت اچھی ہو تی، زبان صاف ہو تی مگر ایسا نہیں ہوا۔اس لئے کہ میں یتیم تھا اچھا اب میں اس کا بدلہ لوں گا۔مگر آپؐکے دل میں تو یہ زخم پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور جب آپ کو اپنے یُتم کا احساس ہی نہیں ہوا تو آپ کے اندر ا س کا ردّ عمل کس طرح پیدا ہوا۔جب آپ حلیمہ کے گھر میں گئے تو اس کی حالت آپ کے جانے سے بدل گئی اور گھر میں برکت آگئی اور اس نے سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ اس بچہ کی برکت سے ہے۔حلیمہ، اس کا خاوند اور سب گھر کے چھوٹے بڑے آپؐکے گرویدہ ہو گئے اور آپؐپر نثار ہو نے لگے۔اگر گھر میں غربت رہتی اور آپ کو دوسرے بچوں سے کم آرام ملتا تب تو ممکن تھا کہ آپ کے دل میں ردّ عمل پید اہوتا (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ولادۃ رسول اللہ ورضاعتہ)۔اسی طرح جب آپ اپنے گھر واپس آئے تو دادا دل و جان سے فدا ہو کر آپ کی خدمت کرتے۔آپ کی والدہ فوت ہو گئیں تو آپ کے دادا عبد المطلب آپ کو اپنے پاس لے گئے۔عبد المطلب کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ مجلس میں بیٹھتے تو آپ کا اتنا رعب ہوتا تھا کہ ہم میں سے جوان سے جوان کی بھی طاقت نہیں ہو تی تھی کہ آپ کے سامنے آنکھ اٹھائے۔عرب میں بڑوں کا بہت ادب کیا جاتا تھا اور کروایا جاتا تھا لیکن