تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 51
یہاں صاف الفاظ موجود ہیں کہ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ ہم اسے تیری طرف واپس لوٹائیں گے۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ دل میں کوئی بات ڈال دی جائے مگر اس کے الفاظ معین صورت میں نہیں آتے۔الفاظ کا معین صورت میں نازل ہونا بتارہا ہے کہ الہام نہیں اعلام ہے۔اعلام کے معنے اظہار کے ہوتے ہیں اور الہام سابق مفسرین کے نزدیک در دل انداختن کو کہا جاتا ہے۔یہ بھی عربی زبان کا ایک کمال ہے کہ حروف کے معمولی فرق کے ساتھ معانی میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔اگر ایک آدمی سے کوئی بات کہی جائے تو اسے اعلام کہتے ہیں۔لیکن اگر کئی آدمیوں سے بات کہی جائے تو اسے اعلان کہتے ہیں۔چونکہ میم پہلے آتا ہے اور نون بعد میںاس لئے ایک آدمی سے تعلق رکھنے والی بات کو اعلام کہا جاتا ہے اور زیادہ آدمیوں سے تعلق رکھنے والی بات کو اعلان کہا جاتا ہے۔بہرحال مجمع البحار والوں نے ان الفاظ میں مفردات کی ہی تردید کی ہے کہ اس میں جو لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام ہوا یہ صحیح نہیں۔انہیں وحی اعلام ہوئی تھی کیونکہ اس کے معین الفاظ تھے وہ الہام نہ تھی کیونکہ الہام تو در دل انداختن کو کہا جاتا ہے۔میرے نزدیک مفردات والوں نے بھول کر الہام کا دوبارہ ذکر کردیا ہے۔کیونکہ قلبی الہام کا وہ اس سے پہلے خود ذکر کرچکے ہیں یا ممکن ہے ان کا مفہوم کچھ اور ہو، مبہم عبارت کی وجہ سے اس کا مطلب صحیح سمجھ میں نہ آتا ہو۔الغرض وحی کے معنے کرتے ہوئے امام راغب صاحب نے جو یہ تشریح کی ہے کہ فَالْاِلْھَامُ وَالتَّسْخِیْـرُ وَالْمَنَامُ دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُہٗ اِلَّا وَحْیًا کہ الہام (جس کے معنے سابق علماء کے نزدیک در دل انداختن کے ہیں) اور تسخیر اور منام یہ وحی کے ماتحت آتے ہیں اور وراء حجاب سے مراد انہوں نے یہ لیا ہے کہ خدا تعالیٰ خود کلام کرے لیکن نظر نہ آئے اور یُرْسِلَ رَسُوْلًا کا مطلب یہ لیا ہے کہ خدا تعالیٰ خود کلام نہ کرے بلکہ جبریل کے واسطہ سے اپنا کلام بھجوائے اور جبریل نظر نہ آئے۔میرے نزدیک ان کی یہ تشریح درست نہیں کیونکہ نہ ہر وحی قرآنی کے وقت جبریل نظر آتے تھے نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سارا کلام من وراء حجاب تھا۔پھر ان کا من وراء حجاب سے یہ مراد لینا کہ خدا تعالیٰ نظر نہ آئے تو یہ تعریف تو ہر وحی پر چسپاں ہوگی خواہ کسی قسم کی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو منام کا نام وحی رکھتے ہیں مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ اِنْقَطَعَ الْوَحْیُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّـرَاتُ وحی منقطع ہوگئی ہے اب صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں اور مبشرات سے مراد وہ سچے رؤیا ہیں جو مومنوں کو ہوتے ہیں۔اگر منام کا نام ہی وحی ہے تو پھر یوں کہنا چاہیے تھا کہ اِنْقَطَعَ کَلَامُ وَرَاءِ الْـحِجَابِ اِلَّا الْوَحْیُ۔اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو پس پردہ ہوا کرتا تھا وہ اب بند ہوچکا ہے اب صرف وحی باقی رہ گئی ہے جس سے مراد خوابیں ہیں۔پس یہ تشریح جو مفردات والوں نے کی ہے اس قابل