تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 533
انسانوں کے قریب نہیں پھٹکتے۔اگر کوئی آدمی انہیں نظر آئے تو بسا اوقات وہ اسے تیر مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔میں نے ان سب اقوام اور لوگوں کے حالات کا مطالعہ کر کے یہی نتیجہ نکالا ہے کہ کچھ اخلاق کے اصول ایسے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں اختلافات کے باوجود یہ لوگ ان اصول میں متحد ہیں اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔حقیقت یہ ہے کہ مختلف اقوام میں گناہوں سے بچنے کا احساس درحقیقت نتیجہ ہے نفس لوّامہ، کانشنس یا ضمیر کا۔یہ قومی رسم و رواج کانتیجہ نہیں۔پس جو شخص بھی نفس لوّامہ کی طاقت کا قائل ہو گا لازمی بات ہے کہ وہ اس کی آواز کو سنے گااور گناہ سے بچ جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے جو باتیں انسان نے اپنے باپ دادا سے سنی ہوئی ہوتی ہیںا ن کو کرنے لگ جاتا ہے اور جن باتوں سے اسےمنع کیا جاتا ہے ا ن کی نفرت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے ضمیر یا فطرت کی کوئی آواز نہیں ہوتی جو اسے برائیوںپر ملامت کرے۔اللہ تعالیٰ اسی بات کا اس آیت میں ذکر کر تے ہوئے فرماتا ہے کہ جو بھی دِیْن یا وَرَع یعنی بدیوں سے بچنےکے احساس کامنکر ہو گا وہ بدیوںمیں مبتلا ہو جائے گا اور بہت سی نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔فرماتا ہے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ مجھےبتاؤ تو اس شخص کا حال جو ورع کامنکر ہے اور کہتا ہے کہ بدیوں سے احتراز کر نے کی خواہش طبعی تقاضا نہیں بلکہ ایک غیر فطرتی امر ہے جو شخص بھی یہ کہے گا اس کا کیریکٹر کمزور اور اس کے اخلاق خراب ہو جائیں گے اس کےمقابلہ میں جو شخص بھی وَرَع کاقائل ہو گا وہ نیکیوں میں ترقی کرتا چلا جائے گا۔قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ نے نفس لوّامہ کو اپنی ہستی کے ثبوت میں پیش کیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ نفس لوّامہ کی پیدائش ایک خدائی تدبیر ہے۔چونکہ انسان مختلف قسم کے ابتلاؤں میں پڑنے والا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ وہ بغیر حفاظت کے رہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کی فطرت میں ہی ایک آواز رکھ دی۔یہ فطرت کی آواز اسے ہمیشہ نیکی کی طرف کھینچتی رہتی ہے بسا اوقات وہ بدیوں کےمیدان میں بہت دور نکل جاتا ہے مگر پھر کسی وقت فطرت کی آواز اسے یک دم کھینچ کر نیکی کی طرف اس طرح لے آتی ہے کہ یوں معلوم ہو تا ہے وہ کبھی بدیوں میں مبتلا ہی نہیں ہوا تھا اور کبھی گناہوں کی شامت اسے نیکیوں سے بالکل محروم کر دیتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کبھی انسان نیکیوں میں اتنی ترقی کر جاتا ہے کہ یوں معلوم ہو تا ہے اب وہ کبھی بدی کے قریب بھی نہیں جائے گا مگر یک دم اسے جھٹکا لگتا ہے اور وہ دوزخ میں جا پڑتا ہے اور کبھی وہ بدیاں کرتا چلا جاتا ہے اور ان بدیوں میں اتنی ترقی کر جاتا ہے کہ یوں معلوم ہو تا ہے وہ نیکی کے کبھی قریب نہیں آئے گا مگر یک دم اسے جھٹکا لگتا ہے اور وہ جنت میں چلا جاتا ہے(بخاری کتاب الجھاد والسیر باب لایقال فلانا شھید)۔