تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 532

والے امور اور ہیں اور شریعت سے تعلق رکھنے والے امور اور ہیں۔ساری دنیا میں زبانیں بدلیں، رسم و رواج بدلے، حالات اور واقعات بدلے مگر سچ اور جھوٹ کو اچھا یا برا سمجھنے کااحساس ایک ہی رہا۔امانت اور دیانت کو برا یا اچھا سمجھنے کا احساس وہی رہا۔فجی میں بعض ایسے لوگ اب تک پائے جا تے ہیں جو ماں باپ کو مار کر کھا جاتے ہیں۔یہ کتنا بڑا فرق ہے جو ان میں اور دوسرے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔اسی طرح معیار زندگی کو لے لو تو اس میں اختلاف ہوگا۔شادی بیاہ کے معاملے کو لے لو تواُس میں اختلاف ہوگا۔موت کے معاملات کو لے لو تو اس میں اختلاف ہوگا کوئی مردہ کو دفن کرتا ہے کوئی جلاتا ہے اور کچھ ایسے لوگ اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو ماں باپ سے پیار کی یہ علامت سمجھتے ہیں کہ بیمار ہو نے پر انہیں ذبح کر کے کھا لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ما ں باپ پر ہمارا حق ہے کہ ہم انہیں کھائیں ان کے گوشت کو ضائع کیوں ہو نے دیں۔مگر سچ اور جھوٹ کے متعلق ایک افریقہ کے حبشی سے پو چھو، جاپانی سے پوچھو، چینی سے پو چھو، امریکہ کے ریڈ انڈینز سے پوچھو، فن لینڈ کے رہنے والوں سے پوچھو،سوئٹزر لینڈ کے رہنے والوں سے پو چھو، ناروے کے رہنے والوں سے پو چھو ،افریقن قبائل سے پوچھو تو یہ سارے کے سارے زبانوں اور رسم و رواج اور طرز رہائش کے اختلاف کے باوجود اس بات میں کلّی طور پر متفق ہوں گے کہ سچ اچھی چیز ہے اور جھوٹ بُری چیز ہے۔امانت سے کام لینا چاہیے خیانت اور بد دیانتی سے بچنا چا ہئے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ آواز فطرت انسانی کی آواز ہے کیونکہ مذاہب بدل گئے لیکن یہ چیز نہیں بدلی۔رسم و رواج کے ساتھ تعلق رکھنے والے امور بد ل گئے۔زبانوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے امور بدل گئے۔مگر یہ امور نہ بدلے۔پس زبانوں، ملکوں اور مذہبوں کے بدل جانے کے باوجود ان باتوں کے نہ بدلنے کےیہ معنے کیوں نہ لئے جائیں کہ یہ جذبات عادات کا نتیجہ نہیں بلکہ عادات ِ قومی ان جذبات کا نتیجہ ہیں۔یورپ کا فلاسفر کہتا ہے کہ عادات کے نتیجہ میں یہ جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ہم کہتے ہیں اگر اس کے نتیجہ میں یہ جذبات پیدا ہوتے تو ضروی تھا کہ عادات کے مختلف ہو نے سے ان میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا مگر چونکہ ان میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے ہم بجائے یہ تسلیم کرنے کے کہ عادات کے نتیجہ میں یہ جذبات پیدا ہوئے ہیں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عادات قومی ان جذبات کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔غرض ہر ملک اور ہر قوم میں یہاں تک کہ جا ہل سے جاہل اقوا م میں بھی سچائی اور دیانت اور امانت اور عدل اور انصاف اور رحم اور ایسی ہی دوسری خوبیوں کی برتری کا احساس پایا جاتا ہے۔میں نے مختلف مذاہب اور قوموں کے اخلاق کا مطالعہ کیاہے اور اس بارہ میںبعض بڑی بڑی کتب پڑھی ہیں۔پرانی سے پرانی قوموں کے اخلاق کا بھی میں نے مطالعہ کیاہے اور ان قبائل کے عادات کا بھی مطالعہ کیا ہے جو اب بھی جنگلوں میں ننگے رہتے ہیں اور