تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 531
سے نفرت کو طبعی سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی فطرت کا حصہ نہیں بلکہ عادت سے تعلق رکھنے والے امور ہیں۔ہم کہتے ہیں یہ بات بھی درست نہیں۔یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ نفس لوّامہ مر جاتا ہے۔نفس امّارہ آخر اسی وقت پیدا ہو گا جب نفس لوّامہ مر جائے گا۔اگر بار بار خیانت کروائی جائے گی تو یقیناً خیانت کااحساس دل میں سے مٹ جائے گا اور اگر بار بار جھوٹ بلوایا جائے گا تو جھوٹ کا احساس دل میں سے مٹ جائے گا۔مگر سوال یہ نہیں کہ کسی کو عادت ڈال ڈال کر کوئی فعل کروایا گیا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ جو باتیں مختلف مذاہب اور مختلف ممالک اور مختلف حالات میں تمام بنی نوع انسان میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں وہ عادت یا رسم و رواج کے ساتھ تعلق رکھنے والی کس طرح قرار دی جا سکتی ہیں۔دنیا میں جو بڑے بڑے برّ اعظم ہیں ان میں ایشیاہے، یورپ ہے، امریکہ ہے، افریقہ ہے، جنوب مشرقی جزائر ہیں۔ان کی زبانوں میں کتنا بڑا فرق ہے۔ہندوستان میں ہی بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔بلوچیو ں سے پوچھ لو تو ان کی ہی کئی زبانیں نکل آئیں گی۔پٹھانوں کی زبان لے لو تو وہ ہماری زبان سے الگ ہے۔بنگالی زبان دیکھو تو وہ اور قسم کی ہے۔پھر جب ہندوستان سے باہر چلے جاؤ تو زبانوں کا اتنا بڑا اختلاف نظر آئے گا کہ حیرت آجائے گی چینی اور زبان استعمال کر تے ہیں۔روسی اور زبان استعمال کرتے ہیں۔افریقہ کے حبشی بالکل اور زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ذرا بھی تو ان کی ہماری زبان کے ساتھ کوئی مشابہت نظر نہیں آتی۔پھر امریکہ کے ریڈ انڈینز کو دیکھو ان کی زبان اور ہے۔کتنا اختلاف زبانوںمیں پایا جاتا ہے۔اس کے بعد مذہبوں کو دیکھو تو ان میں عظیم الشا ن اختلاف نظر آئے گا۔افریقہ میں چلے جاؤ تو تمہیں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر مذہبوں کا فرق دکھائی دے گا۔جزائر میں چلے جاؤ تو وہاں مذاہب کا اختلاف نظر آئے گا۔اب سوال یہ ہے کہ طبعی نیکیوں سے لگا ؤ اگر صرف مذہب کا نتیجہ ہے تو وہ چیز تو بدل گئی۔تم کہتے ہوکہ چونکہ مذہب نے جھوٹ کے خلاف تعلیم دی تھی اس لئے لوگ جھوٹ سے نفرت کرنے لگے یا چونکہ مذہب نے امانت کے متعلق تعلیم دی تھی اس لئے انہیں امانت کی عادت پڑ گئی۔ہم کہتے ہیں کہ اسی مذہب نے خدا کے متعلق بھی سمجھایا تھا۔رسول کے متعلق بھی سمجھایا تھا۔کتاب کے متعلق بھی سمجھایا تھا۔مگر چین والا کچھ کہتا ہے ،منگولیا والا کچھ کہتا ہے، آسٹریلیا والا کچھ کہتا ہے ،ریڈ انڈینز کچھ کہتے ہیں، یہودی اور عیسائی کچھ کہتے ہیں۔جب اور سب چیزیں بدل گئیں تو کیا وجہ ہے کہ یہ چیزیں نہ بدلیں۔صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ مذہب کا حصہ نہیں بلکہ فطرت کا حصہ ہیں۔مذہب کا حصہ بد ل گیا اور فطرت قائم رہی۔غرض مختلف مذاہب، مختلف زبانوں، مختلف رسم و رواج اور مختلف عادات کا پیدا ہو جانااور پھر طبعی نیکیوں میں ان کا آپس میں اشتراک رہنا بتاتا ہے کہ فطرت سے تعلق رکھنے