تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 521

کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔جس شخص کے اندر قومی جذبہ پیدا ہو گا اس کا مطمحِ نظر وسیع ہو جائے گا۔ایک کمزور سے کمزور اور جاہل سے جاہل انسان کو بھی جاکر دیکھو اس کی قوت فکر اتنی مری ہوئی نہیں ہو تی جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔جاہل سے جاہل ماںبھی بچے کا کتنا فکر کر تی ہے اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں کا وہ خیال رکھتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔گاؤں میں غریب سے غریب گھروں میں چلے جاؤ جب شادی بیاہ کا موقع آئے گا عورت اپنے پٹارے میں سے کوئی کپڑ انکالے گی اور لڑکی کے جہیز میں رکھ دے گی اور جب اس سے پوچھو کہ یہ کپڑا تم نے کب خریدا تھا تو وہ کہے گی دس سال ہوئے میں نے یہ کپڑا خریدا تھا پھر اس لئے رکھ دیا کہ بچی کی شادی کے وقت کام آئے گا۔اگر اس میں عقل نہیں تھی تو اس نے اتنی لمبی باتیں کس طرح سوچ لیں۔پھر بیسیوں دفعہ خاوند کے پاس معاملہ ادا کرنے کے لئے روپیہ نہیں ہو تا تو عورت اپنی پوٹلی میں سے روپیہ نکال کر اسے دے دیتی ہے اور جب اس سے پوچھا جائے کہ یہ روپیہ تم نے کہاں سے لیا تو وہ بتاتی ہے کہ پیسہ پیسہ کرکے میں جمع کرتی چلی گئی تھی تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے۔وہ ایسا کیوں کرتی ہے اسی لئے کہ اس کے اندر عائلی جذبہ ہو تا ہے جو اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور جب وہ سوچتی ہے تو اسے مشکلات نظر آتی ہیں پھر وہ ان مشکلات کے علاج پر غور کرتی ہے اور آخر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔اسی طرح ہر شخص اپنے بچے کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ سوچ رہا ہو تا ہے میں اسے کس طرح تعلیم دلاؤں گا کس طرح اس کے کپڑوں اور کھانے کا انتظام کروںگا اس بارہ میں کیا کیا مشکلات پیش آئیں گی اور ان کو کس طرح دور کیا جا سکے گا۔اگر اسی قوت فکر کو قومی بنا دو تو ہر انسان قومی ضروریات کے متعلق سوچ رہاہوگا اور وہی جاہل انسان جس کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ وہ کسی کام کا نہیں جب اسے ان باتوں کے سوچنے پر لگا دو گے تو اس کی نظر وسیع ہو جائے گی۔در حقیقت ہم جس شخص کو جاہل کہتے ہیں قومی نقطہ نگاہ سے اس کے صرف اتنے معنے ہو تے ہیں کہ اس کے دماغ کو سوچنے کی طرف توجہ نہیں۔یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ سوچ نہیں سکتا۔میں نے احمدیہ جماعت کی مجلس شوریٰ میں دیکھا ہے اور میرا بیس پچیس سال کی مجالس شوریٰ کا یہ تجربہ ہے کہ بسا اوقات کسی فیصلہ کی پوری زنجیر اس وقت تک مکمل نہیں ہو تی جب تک ایک عام آدمی کی رائے بھی اس کے ساتھ نہ ملا لی جائے سو میں سے صرف ایک دفعہ مجھے اپنے طور پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ورنہ ننانوے دفعہ میں فیصلہ اسی طرح کرتا ہوں کہ کچھ اس کی رائے میں سے لیا اور کچھ اس کی رائے میں سے، اور ایک نتیجہ پیدا کرلیا۔اگر ہم عوام کو مجلس مشاورت میں شامل نہ کرتے تو وہ بھی صرف اپنے گھر کی ضروریات کے متعلق ہی اپنے دماغوں سے کام لینے کے عادی ہوتے۔لیکن جب ہم نے ان کو اپنی مشاور ت میں شامل کر لیا تو اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے دماغ ترقی کر گئےچنانچہ ان کی آرا ء کے ٹکڑے ٹکڑے