تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 520

ثوا ب حاصل کرنے کاموقع دیا جائے۔ہم مل کر قلب لشکر پر حملہ کریں گے اور عیسائی جرنیلوں کو مار ڈالیں گے۔حضرت ابو عبیدہ جو لشکر کے کمانڈر تھے انہوں نے کہا یہ تو بڑے خطرے کی بات ہے۔اس طرح تو جس قدر نوجوان جائیں گے سب کے سب موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے مگر اس کے سوا اب چارہ بھی کوئی نہیں۔کیا آپ یہ پسندکریں گے کہ ہم نو جوان تو بچ رہیں اور صحابہ ؓ مارے جائیں ؟ اس پر انہوں نے حضرت خالد ؓ سے مشورہ لیا انہوں نے بھی کہا کہ عکرمہ کی رائے ٹھیک ہے دشمن نے ہماری دکھتی رگ کو معلوم کر لیاہے اور اب وہ صحابہ کو ختم کر نا چاہتا ہے ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم ساٹھ نو جوان اپنے ساتھ لیں اور قلب لشکر پر حملہ کر دیں۔آخر حضرت ابو عبیدہ نے ان کے اصرار پر اجازت دے دی اور ساٹھ نو جوانوں نے قلب لشکر پر حملہ کر کے اسے شکست دے دی لیکن اس لڑائی میں ان میں سے اکثر نوجوان مارے گئے۔ایک صحابی ذکر کرتے ہیں کہ جب عیسائی لشکر کو شکست ہو گئی اور وہ سب بھاگ گئے تو میں زخمیوںکی دیکھ بھال کے لئے میدان جنگ میں گیا۔میں نے دیکھا کہ عکرمہ ؓ بن ابی جہل ایک جگہ ز خمی تڑپ رہے تھے میں نے دیکھا اور سمجھا کہ انہیں سخت پیاس لگی ہوئی ہے۔پانی کی چھاگل میرے پاس تھی میں آگےبڑھا تاکہ چھاگل ان کے منہ سے لگاؤں مگر ابھی میں نے یہ ارادہ ہی کیاتھا کہ عکرمہ ؓ نے فضل بن عباسؓکی طرف اشارہ کیا جو ان کے پہلو میں پڑے زخموں سے تڑپ رہے تھے اور کہاکہ انہیں مجھ سے زیادہ پیاس معلوم ہوتی ہے تم جاؤ اور پہلے فضل کو پانی پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں۔وہ کہتے ہیں میں پانی پلانےکے لئے فضل کی طرف گیا تو انہوں نے ایک اور شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو ان کے قریب ہی زخموں سے تڑپ رہا تھا کہا کہ پہلے اسے پانی پلاؤ اسے مجھ سے بھی زیادہ پیاس معلوم ہو تی ہے وہ کہتے ہیں اس وقت دس زخمی مسلمان قریب قریب پڑے ہوئے تھے۔میں ایک سے دوسرے کے پاس دوسرے سے تیسرے کے پاس اور تیسرے سے چوتھے کے پاس گیا مگر ہر شخص نے مجھے یہی کہا کہ دوسرے کو پانی پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ حقدار ہے۔جب میں آخری کے پاس پہنچا تو وہ مر چکا تھا۔پھر واپس لوٹا تو نواں شخص بھی مر چکا تھا۔پھر آٹھویں کی طرف بڑھا تو وہ بھی مر چکا تھا۔اس طرح ایک ایک کر کے سب کو میں نے دیکھا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔پانی کی چھاگل میرے ہاتھ میں تھی۔مرنے والے مرچکے تھے مگر مرتے وقت ان میں سے کسی ایک نے بھی پانی کا ایک گھونٹ نہ پیا محض اس لئے کہ میرا ساتھی مجھ سے زیادہ پیاسا معلوم ہو تا ہے۔یہ ہے قومی روح یعنی اپنے نفس کو مقدم کر نے کی بجائے قومی ضرورتوں کو انسان مقدّم رکھے اور اپنے آپ کو قومی مفاد اور برتری کے لئے قربان کر دے مگر قومی ایثار کا صحیح جذبہ جب بھی پیدا ہو گا قومی خدمت سے پیدا ہو گا۔جب قومی خدمت کا صحیح جذبہ کسی انسان کے دل میں پیدا ہو جائے تو وہ بے انتہا قربانیاں