تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 519

ہے۔ضبط و نظام ظاہر پر دلالت کرتا ہے تم بائیں طرف چلتے ہو تو اس لئے نہیں کہ تمہارا دل بائیں طرف چلنے کو چاہتا ہے بالکل ممکن ہے تمہارا دل دائیں طرف چلنے کو چا ہے مگر تم کہتے ہو میں قوم کا حکم مانتے ہوئےبائیں طرف چلوں گا۔لیکن قومی خدمت کے یہ معنے ہو تے ہیں کہ اگر فرد یہ دیکھے کہ قوم اس کی ہلاکت اور بربادی سے بچ سکتی ہے تو وہ بلا دریغ اپنے آپ کو قربان کر دے۔ضبط و نظم میں حکم کی اطاعت کا سوال ہو تا ہے لیکن ملکی یا قومی جذبہ میں حکم کوئی نہیں ہوتا۔تم خود قوم کا فکر رکھتے ہو، تم خودملک کی ترقی کا احساس رکھتے ہو اور جب تمہیں قومی یا ملکی بر تری کا احساس مجبور کرتا ہے تم اپنے آپ کو ملک اور قوم کے لئے قربان کر دیتے ہو۔گذشتہ جنگ عظیم میں جاپانی فوج کے راستہ میں ایک جگہ بجلی کی تاروں کی باڑ لگا دی گئی تھی جس کی وجہ سے ان کی فوج آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔انہوں نے بڑا زور لگایا کہ کسی طرح ا س کو دور کریں مگر ناکام رہے۔آخر جاپان کے کچھ نو جوان اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے وہ اپنے پیٹوں سے بم باندھ کر اس تار پر گر گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تو تباہ ہو گئے مگر بجلی کی تار بھی ٹکڑے ہو گئی اور فوج کے لئے راستہ بن گیا۔انہیں حکم نہیں تھا کہ تم ایسا کرو مگر چونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اگر حالت اسی طرح رہی تو ہماری فوج وقت پر آگے نہیں بڑھ سکے گی۔اس لئے وہ ان کو بچا نے کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔میں اس جگہ اس سوال پر بحث نہیں کر رہا کہ یہ طریق قربانی کا اسلام کے مطابق ہے یا نہیں۔میں یہ بتا رہا ہوں کہ قومی خدمت کے لئے قربانی اور ضبط و نظم کے لئے قربا نی الگ الگ اقسام کی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب عیسائیوں سے لڑائی شروع ہوئی تو شام میں ایک موقع پر دشمن کا ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہو گیا۔مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔عیسائیوں نے پہلےمخفی طور پر یہ پتہ کرا لیا کہ مسلمانوں میں صحابی کون کون سے ہیں اور پھر انہوں نے اپنے کچھ تیر انداز ایک ٹیلے پر بٹھا دیئے اور انہیں ہدایت کردی کہ وہ اپنے تیروں کا خصوصیت سے صحابہؓکو نشانہ بنائیں۔وہ جانتے تھے کہ جب جب بڑے بڑے لوگ مارے گئے تو باقی فوج کے دل خود بخود ٹوٹ جائیں گے اور وہ میدان سے بھاگ جائے گی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صحابہؓ مارے گئے اور کئی کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔اس پر مسلمانوں کو سخت فکر پیدا ہوا اور انہوں نے سمجھا کہ اگر اب ہم آگے بڑھے تو تمام کے تمام صحابہؓ ختم ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چا ہئے۔اس پر بعض نوجوانوں نے اپنی خدمات پیش کیں اور کہا کہ ہم اپنے آپ کو قربان کر نے کے لئے تیار ہیں اور ان خدمات کے پیش کرنے میں سب سے مقدم وہ نوجوان تھا جس کے خاندان نے اسلام کی دشمنی کا بیج مکہ میں بو یا تھا یعنی ابو جہل کا بیٹا عکرمہ۔ان نو جوانوں نے کہا کہ صحابہ ؓ بہت بڑی خدمات کر چکے ہیں اب ہم جو بعد میں آئے ہیں ہمیں