تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 502

آئین اسلام بھی جاری نہیں ہو سکتا۔ہاں شریعت اسلام ہر وقت جاری ہو سکتی ہے۔حکوت الٰہیہ در اصل عرش پر ہے دنیا میں صرف اس کا۔ظلّ قائم ہو تا ہے اور قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ ہر حملہ جو اس حکومت پر ہو گا ہم پر ہو گا اور ہر دشمن جو اس پر چڑھائی کرے گا وہ ہمارا دشمن ہو گا اور ہم خود اس کا مقابلہ کریں گے۔ایسی حکومت کوئی انسان بنا ہی کس طرح سکتا ہے؟ جس چیز کا میں مخالف ہوں وہ یہ ہےکہ مسلمانوں کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم آئین اسلام جاری کریں گے کیونکہ آئینِ اسلام خلافت کے بغیر نا فذ نہیں ہو سکتا۔آئینِ اسلام چند اصول کا نام ہے جو خلافت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن مسلمان اس وقت خلافت کے قائل نہیں یہ خلافت جب بھی قائم ہو گی روحانی ہو گی جیسے میں اپنے آپ کو خلیفہ کہتا ہوں یہ ظاہر ہے کہ میری خلافت سے دنیوی خلافت مراد نہیں۔پھر میں یہ نہیں کہتا کہ میں آپ ہی خلیفہ بن گیا ہوں بلکہ میں ساتھ ہی یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اب یہ واضح بات ہے کہ اگر میں اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہوں تو خدا خود مجھے سزا دے گا اور اگر سچا ہوں تو لوگوں کی مخالفت میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔بہرحال نظام خلافت کے بغیر حکومت الٰہیہ دنیا میں ہر گز قائم نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر یہ حکومت قائم ہو جائے تو پھر اس سے بہتر حکومت دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا حکومت الٰہیہ کے منکر کو تم نے دیکھا ہے۔ایسا انسان کبھی بھی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی زندگی بسر نہیں کر سکتا وہ رذائل میں گرفتار رہتا ہےاور نفسی نفسی کے جذبات سے متاثر ہو تا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی حکومت کا اس دنیا میں موجود ہونا اور اس کے متعلق کامل یقین رکھنا ایک بہت بڑا اور اہم عقیدہ ہے۔یہ عقیدہ نہ لفظوں سے پیدا ہوتا ہے نہ تقریروں سے بلکہ یہ انسان کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی حکومت کے آخر کیا معنےہیں۔کیا عیسائی خدا کو نہیں مانتے ؟ کیا یہودی خدا کو نہیں مانتے ؟ پھر خدا تعالیٰ کی حکومت کے قیام کا کیا مطلب ہے ؟ در اصل خدا تعالیٰ کی حکومت کے معنے خدا تعالیٰ کے اس دنیامیں کامل تصرف کے ہیں یعنی انسان خدا تعالیٰ کو ایک عامل اور فعّال وجود تسلیم کرے۔صرف منہ سے نہ کہے کہ خدا ہے بلکہ تسلیم کرے کہ خدا اس دنیا کے ذرہ ذرہ میں دخل دے رہا ہے۔مگر اس کے بھی وہ معنے نہیں جو نادان مسلمانوں نے تقدیر کے سمجھ لئے ہیں کہ اگر چوری بھی کرواتا ہے تو نعوذباللہ خدا کرواتا ہے ،بدکاری بھی کرواتا ہے تو خدا کرواتا ہے، قتل بھی کرواتا ہے تو خدا کرواتا ہے۔یہ بد ترین تمسخر اور استہزاء ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ کیاجاتا ہے۔دنیا میں ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کاموں میں دخل دیتا ہے ایک حکومت چل رہی ہو تی ہے اور کوئی مقتدر بادشاہ بر سر حکومت ہو تا ہے تو کہنے والے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ سارے کام یہی کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ ملک کے استحکام اور فوجوں کی ضروریات سے تعلق رکھنے والے تمام امور ان کے ہاتھ میں ہیں۔اب اگر