تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 494
ایک لمبے مقابلہ کے بعد اس کی قوم نے یہ تدبیر کی کہ اس کے چچا کا اس پر بڑا اثر ہے اگر اس کے ذریعہ اسے سمجھایا جائے اور وہ بھی یہ دباؤ ڈالے کہ اگر تم نے اس طریق کو جاری رکھا تومیں بھی تمہیں چھوڑ دوں گا تو ممکن ہے یہ شخص سیدھا ہو جائے۔اور یہ سوچ کر قوم کے بڑے بڑے لوگ اس کے چچا کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تمہارے بھتیجے نے ہم سے لڑائی کر رکھی ہے اور وہ بہت لمبی ہو گئی ہے۔اب ہم تمہارے سامنے یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ آ خر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس کا دماغ خراب ہو گیا ہےاگر دماغ خراب ہو گیا ہے تو اس کے علاج پر جو بھی خرچ آسکتا ہو وہ ہم خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں۔یا کیا اس کو دو لت کی خواہش ہے اگر یہ ہے تو ہم اپنی تمام دولت جمع کر کے اس کا تیسرا حصہ اسے دےدیتے ہیں۔ہم میں سے ہر بڑے سے بڑا مالدار اور ہر غریب سے غریب انسان بھی اپنی دولت کا تیسرا حصہ اس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہے۔یا پھر کیا اس کی یہ خواہش ہے کہ کسی اچھے خاندان میں اس کی شادی ہو جائے اگر اس کی یہ خواہش ہے تو ہم سارے رؤوسا کی لڑکیاں اس کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں وہ جس سے چاہے شادی کر لے۔یا پھر کیا اسے حکومت کی خواہش ہے؟ اگر یہ بات ہے تو ہم حکومت اس کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہیں۔بتاؤ دنیا داری کے لحاظ سے اس سے زیادہ وسعت حوصلہ والی تجویز اور کیا ہو سکتی تھی اور کیا اس کے بعد ممکن تھا کہ چچا اپنے بھتیجے کی حمایت کر سکتا ؟ پھر قوم نے اتنی بڑی پیشکش کرنے کے بعد جو کچھ کہا وہ یہ تھا کہ ہم اس کے بدلہ میں یہ نہیں کہتے کہ تمہارا بھتیجا اپنا دعویٰ چھوڑ دے ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کی تردید نہ کرے اور باتوں کے متعلق وہ بے شک وعظ وغیرہ کرتا رہے۔پھر انہوں نے کہا اے ہمارے رئیس! ہم تیرا بھی ادب کرتے ہیں اور در اصل تیری خاطر ہی ہم نے تیرے بھتیجے کو اب تک چھوڑا ہوا ہے۔اگر تم سمجھتے ہو کہ ہماری یہ باتیں معقول ہیں تو تم اپنے بھتیجے کے سامنےان باتوں کو پیش کرو اور اسے منوانے کی کوشش کرو اور اگر تم اسے نہ منوا سکو اور خود بھی اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تم اپنی قوم کو ہر طرح ذلیل کرنا چا ہتے ہو۔ہم نے زیادہ سے زیادہ قربانی جو کی جا سکتی تھی کر دی ہے اب تمہارا فرض ہے کہ اپنے بھتیجے کو منواؤ اور وہ نہ مانے تو تم اس کا ساتھ چھوڑ دو ورنہ اپنے بھتیجے کا ساتھ دینے کی وجہ سے تمہاری قوم مجبور ہو جائے گی کہ وہ تم سے بھی اپنے تعلقات منقطع کر لے۔بتاؤ دنیوی نقطہ نگاہ سے اس سے زیادہ منصفانہ تجویز اور کیا ہو سکتی ہے؟ میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ ظاہری شکل میں منصفانہ اور عادلانہ اور کوئی تجویز نہیں ہو سکتی تھی یاکم سے کم میں نے دنیا کے پردہ پر اس قسم کی اور کوئی مثال نہیں دیکھی۔چچا نے ان کی باتیں سنیں اور سمجھا کہ قوم نے جو کچھ کہا ہے ٹھیک کہا ہے اس سے زیادہ وہ کیا قربانی کر سکتی ہے۔چنانچہ جب قوم کا نمائندہ وفد یہ پیشکش کرنے کے بعد واپس چلا گیا تو اس نے اس اُمّیؐ،