تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 493
غالب آئے گی خواہ اگلے جہان میں ہی کیوں نہ غالب آئے۔یہی وجہ ہے کہ نیکی کے اعلیٰ معیار پر کبھی خدا پرست کے سوا اور کوئی شخص قائم نہیں ہوا۔یوں اخلاقِ فاضلہ پر یورپ کے فلاسفر بڑا زور دیں گے اور بیسیوں باتیں اپنی کتابوں میں لکھ دیں گے۔چنانچہ ہکسلے، سپنسر، ہیگل اور کینٹ کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو ان کے دیکھنے سے یوں معلوم ہو گا کہ شاید ان میں مذہبی لوگوں سے بھی زیادہ نیکیاں پائی جاتی ہیں۔مگر جب ان کے ذاتی کیریکٹر کو دیکھا جائے تو وہ نبیوں کے غلاموں کے غلاموں کے برابر بھی نہیں ہوتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ صرف باتیں بھگارتے ہیں ورنہ ان کے دل میں صرف اتنی بات ہو تی ہے کہ ہمیں اپنا فائدہ چاہیے خواہ وہ کسی طرح سے حاصل ہو۔چنانچہ جب انہیں نیکی کے معیار غلط نظر آتے ہیں اور کسی کام میں انہیں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں اپنے فائدہ کی کوئی صورت پیدا کرنی چا ہئے۔ادھر ہم انبیاء کو دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی خطرہ کی صورت ہو یا کیسی ہی مشکلات ہوں ان کے عمل میں کوئی فرق نہیں آتا۔گلیلیو نے جب یہ تحقیق کی کہ سورج زمین کے گرد چکر نہیں کھاتا بلکہ زمین سورج کے گرد چکر کھاتی ہے تو پادریوں نے اس پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور کہا کہ بائبل میں تو یہ لکھا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی شکل پر بنایا ہے اور جب انسان خدا کی شکل پر ہے اور انسان اس زمین پر رہتا ہے تو لازماً یہ زمین اعلیٰ ہوئی۔مگر یہ اتنا بڑا کفر بکتا ہے کہ کہتا ہے وہ زمین جس پر خدا نے انسان کو بنایا وہ سورج کے گرد چکر لگاتی ہے۔چنانچہ انہوں نے گلیلیو کو مختلف قسم کی اذیتیں پہنچانی شروع کر دیں۔کچھ مدّت تک تو وہ مقابلہ کرتا رہا مگر آخر اس نے اعلان کیا کہ میں اب سمجھ گیا ہوں۔در اصل شیطان نے مجھے کافر اور بے دین بنانے کے لئے ورغلا دیا تھا اور مجھے یہ نظر آنے لگا کہ زمین سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے لیکن یہ غلط تھا زمین سورج کے گرد چکر نہیں کاٹتی بلکہ سورج زمین کے گرد چکر کاٹتا ہے کیونکہ دین میں ایسا ہی لکھا ہے۔اس لئے میں اپنے پہلے عقیدہ سے توبہ کرتا ہوں۔یہ کتنی چھوٹی سی بات تھی مگر کہاں گئی اس کی صداقت اور کہاں گیا اس کا دعویٰ۔یہی یورپ کے آج کل کے فلسفیوں کا حال ہے۔کتابوں میں کچھ لکھتے ہیں مگر جب ذاتی اغراض کا سوال آجائے یا قومی مفاد اور لڑائیوں کا سوال آجائے تو اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔اس وقت سارا فلسفہ انہیں بھول جاتا ہے۔ادھر وادیٔ غیر ذی زرع کا رہنے والا ایک شخص جو پڑھا لکھا نہیں تھا۔جو دستخط کرنا بھی نہیں جانتا تھا۔جس کا صرف اتنا دعویٰ نہیں تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یا سورج زمین کے گرد گھومتا ہےبلکہ وہ اپنی قوم اور ملک کے رسم و رواج اوراس کے عقیدوں کےخلاف ساری دنیا میں اعلان کرتا تھا کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے۔جب اس کی قوم نے اس کی مخالفت کی تو وہ نڈر ہو کر ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ