تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 492
جس شخص کا یہ عقیدہ ہو گا کہ نیکی آخر کار غالب نہیں آتی وہ لازماً بدی میں مبتلا ہو جائے گا کیونکہ اس کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہو گی۔کوئی بدی کے مقام سے کھینچنے والا جذبہ اس کے اندر کام نہیں کر رہا ہو گا۔وہ سمجھے گا کہ بہر حال میں نے اپنا یا اپنی قوم کا کام کرنا ہے اگر اس کے لئے مجھے برا ذریعہ اختیار کرنا پڑے گا تو میں برا ذریعہ اختیار کر لوں گا اور اگر اچھا ذریعہ اختیار کرنا پڑا تو اچھا ذریعہ اختیار کر لوں گا۔نیک ذریعہ اختیار کرنے میں چونکہ قربانی کرنی پڑتی ہے اس لئے یہ لازمی بات ہے کہ ایسا شخص گناہ اور بدی کے راستوں کو زیادہ اختیار کرے گا۔لیکن جو شخص یہ سمجھے گا کہ آخر نیکی ہی کی فتح ہو تی ہے یہ لازمی بات ہے کہ وہ اپنے نفس کو روکتا رہے گا اور سمجھے گا کہ اگر مجھے عارضی نقصان پہنچتا ہے تو کیا حرج ہے میں عارضی فائدہ کے لئے اپنا دائمی نقصان کیوں کر لوں۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خیال کہ آخرمیں نیکی کی فتح ہو تی ہے کبھی بھی قیامت پر یقین کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔جو شخص قیامت پر یقین نہیں رکھتا وہ نیکی کے آخری غلبہ پر بھی کبھی یقین نہیں رکھ سکتا۔مثلاً یورپ کے فلاسفر سب اس بات پر متفق ہیں اور زور دیتے ہیں کہ نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہیے یا دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ خالص نیکی ہی آخرغالب آیا کرتی ہے۔مگر کوئی ایک یوروپین ملک بھی تو ایسا نہیں جس کی سیاست اس پر مبنی ہو۔ان کی تمام سیاست اس بات پر چکر کھاتی ہے کہ ہماری قوم کو غلبہ ملنا چاہیے اس کے لئے وہ ناجائز ذرائع بھی اختیار کریں گے اور دھوکا بازیاں اور فریب بھی کرتے رہیں گے انگریزی کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ END JUSTIFIES THE MEANS یعنی اگر ہمارا مقصد نیک ہو تو اس کے حصول کے لئے جو ذرائع بھی اختیار کئے جائیں خواہ کتنے برے ہوں وہ جائز اور درست ہی سمجھے جائیں گے۔یہ نظریہ ان میں کیوں پیدا ہوا ہے اسی لئے کہ ان کو اُخروی زندگی پر ایمان نہیں وہ کہتے تو یہ ہیں کہ اصل چیز نیکی ہے اور نیکی کو نیکی کی خاطر کرنا چاہیے مگر جب وہ دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ نیکی کرنے والا بعض دفعہ نقصان بھی اٹھا تا ہے اس لئے وہ یہ مسئلہ ایجاد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ نیکی کو سنبھالنے کے لئے اگر کچھ ستو ن بدی کے بھی کھڑے کرنے پڑیں تو حرج نہیں۔کیونکہ اصل مقصد تو نیکی کو قائم کرنا ہے۔لیکن جو شخص اُخروی زندگی پر ایمان لاتا ہےوہ اعمال کا انجام کلی طور پر اسی دنیا میں دیکھنے کا منتظر نہیں ہو تا وہ سمجھتا ہے کہ اگر نیکی پر کاربند رہتے ہوئے مجھے یا میری قوم کو نقصان پہنچتا ہے تو پہنچنے دو میرے اس دنیا کے نقصان کو اگلے جہان میں پورا کر دیا جائے گا۔ایسا شخص نیکی کے قیام کے لئے برے ذرائع کو استعمال کرنے کی نہ جرأت کرتا ہے اور نہ اس کی ضرورت سمجھتا ہے۔کیونکہ وہ اس دنیاکو اگلی دنیا کی ایک کڑی سمجھتا ہے اور اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ نیکی بہرحال