تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 491

فرماتا ہے ضبط ِ نفس اور نظام کا جو شخص منکر ہوگا وہ گناہ میں ضرور مبتلا ہو گا۔ہم سے کئی لوگ پوچھتے ہیں کہ فلاں سے یہ غلطی ہو گئی ہے کیا ہم اس کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟ میں ہمیشہ انہیں کہا کرتا ہوں کہ تم محکمہ کولکھواور پھر جو کچھ وہ فیصلہ کرےاس کے مطابق عمل کرو تمہارا حق نہیں کہ تم خودبخود اس بارہ میں کوئی فیصلہ کر لو کیونکہ ممکن ہے تمہاری اس سے دشمنی ہو اور تمہاری رائے آزادانہ نہ ہو پس قانون شکنی اور چیز ہے اور قانون شکنی کا ثبوت اور چیز ہے۔اور وہ بھی نہایت ضروری ہے۔اس کےبغیر کوئی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص نظام کی پابندی کرے گا وہ تبھی ایسا کرے گا جب اسے یقین ہو گا کہ قومی ترقی فردی ترقی کی ضامن ہوا کرتی ہے۔اس وقت دنیا میں دو نظریے پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ چونکہ قوم فرد سے بنی ہے اس لئے فردی ترقی ہی اصل مقصود ہےاس عقیدہ کے قائل لوگ سمجھتے ہیں کہ نظام زیادہ ضروری نہیں اگر افراد کی ترقی میں نظام قومی روک بن جائے تو ان کا حق ہے کہ وہ اس نظام کو توڑ دیں۔لیکن بعض اور لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ قومی ترقی فردی ترقی کی ضامن ہو تی ہے۔ا ن کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ فردی آزادی کو قائم رکھنا بےشک قوم کے ذمہ ہے لیکن فرد کو اپنے طور پر یہ اختیار نہیںکہ وہ قومی قانون کو اپنے مفاد کے خلاف دیکھ کر توڑ دے اگر وہ سمجھتا ہے کہ قومی قانون فرد کی ترقی میں روک بن گیا ہے تو وہ مقررہ ذرائع سے اس قانو ن کو بدلوا سکتا ہے مگر اس کا یہ اختیار نہیں کہ وہ آپ ہی آپ اس کو توڑنا شروع کر دے۔اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کایہی مفہوم ہے کہ جو بھی قومی ترقی کے اوپر فردی ضرورت کو غالب کرے گا وہ ضرور خود غرضی کے گناہوں میں مبتلا ہو جائے گااور ذاتی جلبِ منفعت کے لئے مختلف قسم کے ایسے کام شروع کر دے گا جن سے قوم میں غلطیاں پیدا ہو جائیں گی اور کئی قسم کے گناہوں کا دروازہ کھل جائے گا۔(۳) اس آیت کے تیسرے معنےغلبہ کےمنکر کے ہیں۔غلبہ کے منکر سے بھی یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ محض غلبہ کا منکر۔کیونکہ محض غلبہ تو دنیامیںکسی نہ کسی صورت میں ہوتا ہی ہے۔ملک میں انتظام نہیں ہو تا تو چور اور ڈاکو غالب ہوتے ہیں۔انتظام ہوتا ہے تو حکومت غالب ہو تی ہے۔یہ تو دنیا میں کبھی ہوا ہی نہیں کہ کوئی غالب اور کوئی مغلوب نہ ہو۔پس اس سے مراد محض غلبہ نہیں ہو تا بلکہ حق اور انصاف کا غلبہ مراد ہے۔پس اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کےایک معنے یہ ہوئے کہ مجھے بتا تو سہی کہ وہ کون لوگ ہیں جو یہ یقین نہیں رکھتے کہ آخر نیک اعمال ہی کی فتح ہوتی ہے۔جو شخص بھی یہ خیال رکھے گا کہ نیک اعمال کی فتح ضروری نہیں وہ بدی میں ضرور مبتلا ہو گا جیسے ہماری پنجابی زبان میں کہتے ہیں۔ایہہ جگ مٹھّا تے اگلا کنِّ ڈٹھّا