تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 490
یہ معنے بھی نہیں کہ چند افراد اپنے ہاتھ میں حکومت کے اختیارات لے لیں اور جس طرح چاہیں لوگوں پر دباؤ ڈالیں۔ابھی سِوَل میں مَیں نے پڑھا ہے کہ راولپنڈی یا لائل پور میں ایک شخص نے روزہ نہیں رکھا تھا لوگوں نے اس کا منہ کالا کر کے تمام بازار میں پھرایا۔اب اگر وہ شخص احتجاج کرے کہ پبلک کو اس بات کا کیا حق ہے کہ وہ نظام کو اپنے ہاتھ میں لے تو یہ بالکل ٹھیک ہو گا پبلک کو ہر گز اس قسم کا کوئی حق نہیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر محرم کے پاس ایسی حالت میں بیٹھا دیکھوں جس کے معنے یہ ہوں کے وہ شخص زنا کر رہا ہے تو یا رسول اللہ کیا میں اسے مار ڈالوں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر گز نہیں۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! اسلام تو ا س کے لئے قتل ہی کی سزا تجویز کرتا ہے (اس وقت تک ابھی رجم پر ہی عمل ہوتاتھا ) آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس صحابی نے کہا جب اسلام بھی اس کے لئے یہی سزا تجویز کرتا ہے تو اگر میں خود ہی اسے مارڈالوں تو اس میں کیا حرج ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تم اسے مارو گے تو تم قاتل سمجھے جاؤگے تم اسے قاضی کے پاس لے جاؤ اور اس کے سامنے مقدمہ پیش کرو۔اپنےہاتھ میں قانون لینے کا تمہیں اختیار نہیں(بخاری کتاب الطلاق باب اللعان و من طلق بعد اللعان)۔غرض جو قانون گورنمنٹ نے بنایا ہے اس میں گورنمٹ کے قاضی کا فیصلہ لینا ضروری ہو گا۔ورنہ اس سے امن نہیں بلکہ فساد اور بدامنی پیدا ہو گی یا جو قانون سوسائٹی نے بنایا ہے اس میں سوسائٹی کا قاضی فیصلہ کرے گا یا پنچ وغیرہ کریں گے ہر ایک کو حق نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے اور مجرم کو سزاد ینی شروع کر دے۔ہزاروںہزار دفعہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے پر الزام ثابت ہے مگر قاضی کہتا ہے کہ الزام ثابت نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون یہ کہتا ہے کہ اگر اس اس طرح جرم ثابت ہو تب دوسرا شخص مجرم ثابت ہو گا اور اگر اس طرح جرم ثابت نہیں ہو گا تو اسے بَری قرار دیا جائے گا کیونکہ قانون نے غیرمجرموں کو بچانے کے لئے ثبوت کے معیارزیادہ سخت تجویز کئے ہوئے ہیں۔اگر نرم ہوتے تو کئی غیر مجرموں کو بھی لوگ پھنسا دیتے۔پس قانون نے نا کردہ گناہ لوگوں کو سزا سے محفوظ رکھنے کے لئے ثبوت کے معیار پبلک کے نقطہ نگاہ کے مقابلہ میں زیادہ سخت رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔اگر پبلک کو یہ اختیار ہو تا کہ وہ جس کو چاہے سزادے دے تو وہ اپنی ناتجربہ کاری کے ماتحت کئی غیر مجرموں کو بھی سزا دے دیتی۔بہر حال قانون کا منشا صرف مجرم کو سزا دینا نہیں ہو تا بلکہ اس کا یہ بھی منشا ہو تا ہے کہ کوئی غیر مجرم اس سزا کا مستحق نہ بن جائے۔پبلک تو سمجھتی ہے کہ ہمیں جس کے متعلق کوئی شبہ ہوگیا ہے اسے ہم سزا دے دیں لیکن قانون کا دماغ منصفانہ ہوتا ہے۔وہ سزا تو دیتا ہے مگر ایسے طور پر جرم ثابت کرتا ہے کہ غیرمجرم مجرم ثابت نہ ہو اور سزا صرف اسی کو ملے جس نے جرم کیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ