تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 478

چونکہ مفتی عبدہٗ ایسی باتوں سے بچتے تھے جو خلافِ عقل اور نقل ہوں اور دشمن کو اسلام پر ہنسی کا موقع دیتی ہوں اس لئے ان کی تفسیر مصر میں بہت مقبول تھی۔رشید رضا صاحب چونکہ ان کے شاگرد اور ان کے قدم پر چلنے والے تھے مصر میں ان کو بھی بہت رسوخ حاصل تھا گو مفتی عبدہٗ جیسا مقام ان کو حاصل نہیں تھا۔بہرحال مولانا شبلی نے ان کو صدارت کے لئے بلوایا۔یہ حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ کی بات ہے۔میں ان دنوں مدرسہ احمدیہ کا انچارج تھا۔میں نے ارادہ کیا کہ بعض علماء کو اپنے ساتھ لے کر ہندوستان کے مشہور عربی مدارس کا دورہ کروں اور یہ دیکھوں کہ وہ مدارس کس رنگ میں جاری ہیں اور کس طرح ان میں لڑکوں کو تعلیم دی جاتی ہے تاکہ اس تجربہ سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنے مدرسہ کی تعلیم کو بھی ترقی دے سکیں۔چنانچہ ہم اس دورہ کے سلسلہ میں دیوبند، فرنگی محل، رامپور اور بنارس وغیرہ گئے۔دلّی کے مدارس بھی دیکھے۔کان پور کے مدرسہ الٰہیات کا بھی معائنہ کیا۔مولانا شبلی کو ہمارے اس دورہ کا پتہ لگا۔تو چونکہ وہ مرنجانِ مرنج اور غیرمتعصب آدمی تھے آج کل کے ملّانوں کی طرح نہیں تھے انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ہمارے جلسہ پر ضرور تشریف لائیں اور ہمارے ہاں ہی قیام کریں۔ہم ان کی دعوت پر چلے تو گئے مگر مصلحتاً ہم ان کے ہاں نہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے سمجھا کہ غیراحمدیوں کو پتہ لگا تو وہ چڑیں گے اور ممکن ہے اس طرح کوئی بدمزگی پیدا ہو مگر جب مولانا شبلی کو پتہ لگا کہ ہم کہیں اور ٹھہرے ہوئے ہیں تو وہ اصرار کر کے ہمیں اپنے ہاں لے گئے اور ایک دو دن جب تک جلسہ ہوتا رہا ہم انہی کے ہاں ٹھہرے۔ہمارے جانےسے کچھ بدمزگی بھی ہوئی اور غیر احمدیوں نے گالیاں بھی دیں مگر وہ ہمت والے آدمی تھے انہوں نے کوئی پروا نہ کی۔اسی جلسہ میں ایک دن رات کے وقت ندوہ کے ایک پروفیسر عبدالکریم صاحب کی نماز کے موضوع پر تقریر رکھی گئی۔اس جلسہ میں شہر کے بڑے بڑے رؤوسا، علماء اور اعلیٰ طبقہ کے لوگ خاص طور پر مدعو تھے۔مجھے یاد نہیں کہ شبلی صاحب تھے یا نہیں بہرحال ہم سب لوگ موجود تھے کہ عبدالکریم صاحب ندوی نے نماز پر تقریر شروع کی۔مولانا شبلی نے اس خیال سے کہ لوگوں کو نماز پڑھنے کا شوق پیدا ہو نوجوان طبقہ کو خصوصیت سے مدعو کیا ہوا تھا اور بیرسٹر اور وکیل وغیرہ بڑی کثرت سے آئے ہوئے تھے بدقسمتی سے مولانا شبلی صاحب کو خود معلوم نہیں تھا کہ یہ پروفیسر صاحب کس لیاقت کے ہیں شاید وہ عربی اچھی پڑھاتے ہوں گے اس لئے شبلی صاحب کو ان پر حسن ظنی تھی بہرحال وہ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک دو فقرے اس امر کے متعلق کہے کہ لوگوں کونماز پڑھنی چاہیے کیونکہ نماز کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نماز پڑھنے سے جنت ملتی ہے۔مسلمانوں کے نزدیک جنت کا عجیب وغریب نقشہ اس کے بعد وہ نماز تو بھول گئے اور انہوں نے