تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 477
ان باتوں ذکر آتا ہے۔مگر عیسائیوں سے پوچھو تو ان کے ہاں اس کے متعلق عجیب قسم کا دوغلا سا خیال پایا جاتا ہے۔مثلاً قیامت کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تَقُوْمُ السَّاعَۃُ عَلٰی اَشْـرَارِ النَّاسِ۔یعنی دنیا میں جب صرف اشرار الناس رہ جائیں گے اور اخیار بالکل مٹ جائیں گے تو قیامت آجائے گی۔اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیدائش بالکل فنا ہو جائے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا مٹ جائے گی اور اس کی جگہ کوئی اور دنیا قائم کردی جائے گی۔لیکن عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نیکوں پر قیامت آئے گی۔چنانچہ ان میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ آخری زمانہ میں جب مسیح آئے گا تو شریر سب مار دیئے جائیں گے اور نیک ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہی دنیا جنت بن جائے گی۔گویا یہود نے بھی اس مادی دنیا کو اپنے لئے پسند کیا تھا اور عیسائیوں نے بھی اسی مادی دنیا کو جنت بنا لیا۔جب وہ اس دنیا میں رہیں گے اور یہی دنیا جنت بن جائے گی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہی بکرے کاٹ کاٹ کر کھائیں گے، انہی بھینسوں کا دودھ پئیں گے اور یہی پھل اپنے استعمال میں لائیں گے قرآن کریم نے تو اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ جنت میں جو میوہ ملے گا اس کے کھانے سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھے گی۔اور جو دودھ کا پیالہ ملے گا اس کے پینے سے خدا تعالیٰ کا عرفان ترقی کرے گا۔اور اس نے بتایا تھا کہ اس دنیا کی چیزیں جنت کی نعمتوں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں۔یہ چیزیں اور ہیں اور وہ چیزیں اور۔مگر عیسائیوں کے نزدیک جب روحانی لوگ اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے تو یہی دنیا جنت بن جائے گی درحقیقت اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر دنیا میں لوگ بھلے مانس بن جائیں، شرافت کے ساتھ اپنی زندگی کے دن بسر کرنے لگیں، شرارتوں اور بد اعمالیوں سے بچیں تو عیسائیوں کے نزدیک کسی اور جنت کی ضرورت ہی نہیں۔اسی دنیا کو ہم جنت کہہ دیں گے۔گویا وہ جنت جس میں ہمارے نزدیک انسان روحانی بنتے بنتے آخر خدا کو دیکھنے لگ جائے گا یہ تصوّر مسیحیوں کے نزدیک بالکل غلط ہے۔ان کے نزدیک اس دنیا میں سے جب اشرار الناس کا خاتمہ ہو جائے گا تو یہی دنیا جنت کہلانے لگ جائے گی اور اسی دنیا کی نعمتیں ان کے لئے جنت کی نعمتیں بن جائیں گی۔لیکن حال یہ ہے کہ مسیحی رُہبان موجودہ زمانہ کو پچھلے زمانوں سے برا اور خراب سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کی بھی آج کل یہی حالت ہے۔وہ بھی جنت کو انہی مادی چیزوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے ۱۹۱۲ء میں لکھنؤ میں ندوہ کا جلسہ ہوا مولوی شبلی صاحب مرحوم نے اس جلسہ کی صدارت کے لئے مصر سے علامہ رشید رضا بلوائے علامہ رشید رضا مفتی عبدہٗ کے شاگرد تھے اور مفتی عبدہٗ جمال الدین صاحب افغانی کے شاگرد تھے۔جمال الدین صاحب افغانی کا طرز تفسیر ایک حد تک (گو اس درجہ کو نہیں پہنچ سکے) ہمارے ساتھ ملتا جلتا تھا۔مفتی عبدہٗ ان کے شاگرد تھے اور مفتی عبدہٗ کے شاگرد علامہ رشید رضا تھے