تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 470

دیکھتے ہوئے ان کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا اس لئے سوائے اس توجیہ کے اور کوئی توجیہ ان روایات کی ہو ہی نہیں سکتی کہ ان لوگوں کا یہ منشا نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ یہ آیت فلاں شخص کی نسبت ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ ہمارے علم میں فلاں شخص کے حالات پر یہ آیت خوب چسپاں ہوتی ہے۔پس شانِ نزول کی کسی روایت سے کسی آیت کے معنوں کو ایک خاص واقعہ سے محدود کرنا نہایت غلط طریق ہے اور قرآن کریم کے وسیع سمندر کو ایک کوزے میں بند کرنے کی ناکام کوشش کے مترادف ہے۔اس زمانہ کے مسلمان علماء میں یہ عام مرض ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھی جائے اور انہیں کہا جائے کہ اس سے یہ مضمون نکلتا ہے تو وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ واہ ہمارے ساتھ اس کا کیا تعلق؟ اس کا تو شانِ نزول یہ ہے اور یہ آیت فلاں شخص سے تعلق رکھتی ہے۔گویا جس طرح کشتی کو کسی کیلے یا درخت کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے وہ اس آیت یا سورۃ کو کسی منافق یا مومن یا مہاجر یا انصاری یا عیسائی یا یہودی کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم کسی خاص شخص کے لئے نہیں آیا بلکہ ساری دنیا کے لئے آیا ہے اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مخاطب ہیں اور تمام مسلمان اور عیسائی اور یہودی اور مجوسی وغیرہ بھی مخاطب ہیں۔پھر قیامت تک آنے والے تمام لوگ بھی اس کے مخاطب ہیں۔زید یا بکر کے ساتھ اس کی کسی آیت یا سورۃ کو مخصوص قرار دینا قطعی طور پر غلط بات ہے۔بلکہ میں تو اس بات کو بھی جائز نہیں سمجھتا کہ قرآن کریم کو صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص قرار دیا جائے۔اگر قرآن صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کوئی بات کہتا تو وہ وہیں ختم ہو جاتی اور باقی دنیا اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکتی۔حالانکہ قرآن کریم قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے ہے۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ۔اب کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو اصحاب الفیل کے واقعہ پر غور نہیں کرنا چاہیے؟ پس میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی کسی سورۃ یا آیت کے شانِ نزول کو مخصوص قرار دینا جائز نہیں سمجھتا کجا یہ کہ یہ قرار دیا جائے کہ کوئی سورۃ یا آیت کسی منافق یا کسی مومن یا کسی کافر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے تم پر قرآن نازل کیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ قرآن ہمارے لئے نازل نہیں ہوا۔جیسے ان پر نازل ہوا ہے ویسے ہی ہمارے لئے نازل ہوا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ہم پر فضیلت حاصل ہے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نیکی اور آپ کے تقویٰ اور آپ کے عرفان اور آپ کی روحانیت کے اعلیٰ مقام کو دیکھتے ہوئے آپ کو اس غرض کے لئے چن لیا کہ