تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 469

ہوئے میرے نزدیک قرین قیاس یہی ہے کہ اَئمۂ جمہور نے جو سمجھا وہی درست تھا۔گو جمہور نے اپنی تائید میں کوئی ایسی روایت جو کسی صحابی سے مروی ہو نہیں لکھی۔لیکن اکثر تابعین کا اس پر اتفاق بتاتا ہے کہ روایات تو ضرور تھیں مگر بوجہ شہرت عامہ کے انہوں نے ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔شان نزول بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ سورۃ ابوجہل کے متعلق اتری ہے۔دوسرے لکھتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کے متعلق اتری ہے۔بعض کہتے ہیں کہ عاص بن وائل کے متعلق اتری ہے۔یا عمرو بن عائذ کے متعلق اتری ہے یا مدینہ کے دو منافقوں کے متعلق اتری ہے یا ابوسفیان بن حرب کے متعلق اتری ہے(فتح البیان سورۃ الماعون ابتدائیۃ)۔اس قسم کی روایات کو بیان کرنے کی میرے لئے کوئی ضرورت نہیں تھی۔میںنے انہیں صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ یہ ایک واضح مثال اس بات کی ہے کہ بعض دفعہ مختلف آراء کے ملنے سے کس طرح ایک مضحکہ خیز بات بن جاتی ہے۔بھلا جس چیز کے متعلق کوئی یقینی پتہ ہی نہیں اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت کیا تھی یہ بات کہ کوئی آیت یا سورۃ کس شخص کے بارہ میں ہے سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون بتا سکتا تھا اور اگر آپ بتاتے کہ یہ آیت کس شخص کےبارہ میں اتری ہے تو آپ ایک شخص کا نام لیتے یا ایک جماعت کے ایک فعل کا ذکر کرتے۔یہ تو نہیں کہ آپ فرماتے مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ آیت یا سورۃ فلاں شخص کے بارہ میں ہے یا فلاں کے یا فلاں کے۔اس قسم کے شبہ والی بات یا غیریقینی رائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آیت قرآنی کی نسبت جس کا علم آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا تھا کس طرح کہہ سکتے تھے۔پس یہ روایات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں بلکہ لوگوں کےخیالات ہیں اور لوگوں کےخیالات سے شانِ نزول کا پتہ نہیں لگ سکتا۔میں نے اس آیت کے شان نزول کی نسبت مختلف روایات کے مطابق صرف سات آدمیوں کانام لیا ہے ورنہ روایات میں بارہ کے قریب لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان میں سے کوئی مراد ہے۔پس ان روایات کی طرف تفسیر میں اشارہ کرنا اس آیت کی تفسیر کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بالکل غیر ضروری تھا مگر اس آیت کے بارہ میں جو یہ روایات آئی ہیں ان کی ایک قیمت ضرور ہے اور وہ یہ کہ ان سے خوب اچھی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ شانِ نزول کے معنے یہ نہیں ہوتے کہ واقعہ میں اس شخص یا واقعہ کے بارہ میں وہ آیت نازل ہوئی ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا مضمون فلاں شخص یا واقعہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔اگر یہ مطلب ان روایات کا نہیں ہوتا تو پھر یہ روایات جو اس آیت کو بارہ متفرق اشخاص کے بارہ میں بتاتی ہیں ایک دوسرے کے نقیض ہونے کے سبب سے جھوٹی کہلائیں گی اور ان کے راوی خواہ صحابی ہوں خواہ تابعی نعوذ باللہ من ذالک مفتری قرار پائیں گے۔مگر چونکہ ان لوگوں کی دیانت اور راستبازی کو