تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 436
نے یہ دیکھ کر کہ یہ جاہل بھی ہیں اور ان میں نوحؑ اور ابراہیمؑ کی تعلیم کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا یہو داور نصاریٰ سے ان کا تعلق قائم کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہاشم بن عبد مناف کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا کہ وہ ہر سال مکہ والوں کے قافلے یمن اور شام میں روانہ کیا کریں تاکہ تجارتی اموال کے ذریعہ ان کی حالت بھی درست ہو جائے اور یہود و نصاریٰ سے تعلقات پیدا ہو جانے کی وجہ سے محمدی پیشگوئیاں بھی ان کے سامنے بار بار آتی رہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ بنیں گے کہ اس امر پر تعجب کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سردی گرمی کے سفر پر تیار کر دیا یعنی ان لوگوں کے دلوں میں سفر کی محبت پیدا کر دی۔ان معنوں کے رو سے ایک دوسرے معنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بے شک ان معنوں سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کو سردی گرمی کے سفر پر تیار کر دیا اور اس طرح یہ محمدی دین کی طرف مائل ہو گئے۔مگر ایک اور حکمت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ہاشم نے کہا تھا کہ اگر تم سفروں کے لئے نہ نکلے تو تم بھوکے مرو گے اور دوسری قوموں میں ذلیل ہو جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس سردی گرمی کے سفرکی دراصل ہم نے تدبیر کی تھی اگر یہ سفر نہ ہوتا تو ان میں ایمان تو تھا ہی نہیں صرف قومی رسم و رواج کی وجہ سے وہ وہاں ٹھہرئے ہوئے تھے۔ممکن تھا کہ اگر وہ اسی طرح ایک لمبے عرصہ تک بھوکے مرتے چلے جاتے تو تنگ آکر وہ مکہ چھوڑ دیتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں مکہ میں رکھنے کے لئے یہ تدبیر سُجھا دی ورنہ دنیا کی تاریخ پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزارہا قومیں دنیا میں ایسی گذری ہیں جنہوں نے اپنی معاشی ضرورتوں کے لئے جگہیں بدلی ہیں۔یہی ایرنیز جو آج ہندوستان کے مالک بنے پھرتے ہیں تبت وغیرہ علاقوں اور چین کی طرف سے آئے تھے(تمدن ہند صفحہ ۲۴۰) اور پھر یہاں آکر بس گئے ان کا کچھ حصہ اپنے مرکز سے نکلا تو یورپ میں جا کر بس گیا۔پھر مغلیہ قوموں کو ہی دیکھ لو ان میں سے کچھ ترکیہ میں جابسے کچھ فن لینڈ میں جابسے۔اسی طرح ہنگری بھی مغلوں اور ترکوں سے بسا ہوا ہے۔چین کے اوپر کے علاقوں اور منگولیا وغیرہ میں بھی مغل پائے جاتے ہیں۔بلکہ بعض کے نزدیک تو مغلوں کی ابتداء ہی منگولیا سے ہوئی ہے(اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر لفظ مغل)۔پھر کچھ ہندوستان میں بھی آگئے۔یہی حال پٹھانوں کا ہے۔ہندوستان میں جن کو خان صاحب، خان صاحب کہہ کر پکارا جاتاہے یہ دراصل روٹی کی تنگی کی وجہ سے ہی افغانستان سے آئے تھے۔کچھ معاشی حالت درست کرنے کے لئے اور کچھ معاشی مصیبتوں سے بچنے کے لئے۔اسی طرح اور ہزاروں قومیں ہیں جو اپنے ملکوں سے نکلیں اور معاشی ضروریات کے لئے دوسرے ملکوں میں جا بسیں۔عرب لوگ بھی اگر یہ سفر نہ کرتے تو بالکل ممکن تھا کہ معاشی ضروریات انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیتیں کہ وہ مکہ چھوڑ دیتے۔