تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 435

جاری رہی مگر جب مٹتے مٹتے بالکل مٹ گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ ایک نئی شریعت بنی اسرائیل کے لئے آگئی۔مگر ان کا موعود چونکہ خاتم النبیین تھا جس نے موسوی سلسلہ کے ختم ہونے پر آنا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ بنو اسحاق میں تو شریعت کا دوبارہ اجراء ہو گیا اور وہ قوم اس سے غافل نہ ہوئی مگر بنو اسمٰعیل میں چونکہ شریعت نہ آئی اس لئے وہ کمزور ہوتے ہوتے ایسی حالت تک پہنچ گئے کہ ان میں سے شریعت بالکل مٹ گئی۔وہ جنگلوں میں رہتے تھے غیرملکوں سے ان کے کوئی تعلقات نہ تھے۔وہ پڑھے لکھے بھی نہیں تھے اور کتابت کا فن بھی ان میں بالکل مفقود تھا اور اس بارہ میں اتنی کمزوری تھی کہ پڑھنے لکھنے والے عرب میں کوئی قابل قدر وجود نہیں سمجھتے جاتے تھے۔سارے مکہ میں صرف سات آدمی تھے جو پڑھے لکھے تھے۔گو اس بارہ میں روایتوں میں اختلاف ہے بعض پانچ کہتے ہیں، بعض سات کہتے ہیں، بعض گیارہ کہتے ہیں۔مگر مکہ پندرہ بیس ہزار کا شہر تھا اس میں پانچ سات یا گیارہ کیا حیثیت رکھتے تھے۔پھر جن کو پڑھنا آتا تھا ان کو بھی ان کی قوم نے پڑھنے کی اس لئے اجازت دی تھی تاکہ مختلف حکومتوں اور ریاستوں سے خط و کتابت کرنی پڑے تو ان سے کام لیا جا سکے یا معاہدات لکھنے ہوں تووہ لکھ سکیں گویا قومی ضرورت کے ماتحت ان کو جازت دی جاتی تھی کہ وہ پڑھ لیں۔ورنہ یوں وہ یہی سمجھتے تھے کہ پڑھنا لکھنا کوئی اچھا کام نہیں اور اس کی وجہ ان کا یہ خیال تھا کہ پڑھنے سے حافظہ کمزور ہو جاتا ہے اور یہ بات ایک حد تک ٹھیک بھی ہے۔پڑھنے کی وجہ سے حفظ کرنے کا شوق کم ہو جاتا ہے۔دراصل عربوں میں علمِ ادب کا بڑا شوق تھا۔اور گو وہ پڑھتے نہیںتھے مگر ہزاروں ہزار شعر حفظ کر لیا کرتے تھے۔پس یہ تو ضرور فائدہ تھا مگر کم سے کم جو ضروری ریکارڈ محفوظ کرنا ہوتا تھا اسے بھی وہ تعلیم کے فقدان کی وجہ سے محفوظ نہیں کر سکتے تھے۔نتیجہ یہ ہو اکہ نوحؑ کی تعلیم ان میں بالکل مفقود ہو گئی اور ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہیں آئندہ نبی کی بعثت کے متعلق ابراہیمی پیشگوئیوں اور اس کی تفصیلات کا علم نہ رہا۔ان میں پیشگوئیاں تو تھیں مگر امتدادِ زمانہ اور پھر جہالت کی وجہ سے رفتہ رفتہ پیشگوئیوں کی تفصیل غائب ہو گئی۔وہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ہمارے باپ ابراہیمؑ نے ہمیں یہاں بٹھایا ہےاور اس لئے بٹھایا ہے کہ یہاں بیٹھنے سے ہماری ترقی وابستہ ہے جیسے ہمارے ملک میں ساہنسی یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے یہ پیش گوئی کی ہوئی ہے کہ کسی زمانہ میں سارے ہندوستان میں تمہاری حکومت ہو جائے گی۔مگر اس کے ساتھ کوئی علامتیں نہیں، کوئی آثارنہیں، کوئی تفاصیل نہیں جن سے یہ پتہ لگ سکے کہ یہ پیش گوئی کب پوری ہو گی اور اس کے پورا ہونے کی کیا کیا علامات ہوں گی۔اسی طرح وہ اتنا تو جانتے تھے کہ ہمیں ہمارے باپ ابراہیم نے یہاں ہماری ترقی کے لئے بٹھایا ہوا ہے مگر نوحؑ اور ابراہیمؑ کی پیشگوئیاں وہ بالکل نہیں جانتے تھے۔یہ تفصیلات یہود اور عیسائیوں میں موجود تھیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ