تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 434
تھے۔حضرت نوح علیہ السلام اپنے سلسلہ کے پہلے نبی تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے سلسلہ کے آخری نبی تھے۔جس طرح کہ بنی اسرائیل کے سلسلہ کے حضرت موسیٰ علیہ السلام پہلے نبی تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری نبی تھے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ(الصّٰفّٰت:۸۴) نوحؑ کی جماعت میں سے ابراہیمؑ تھے یعنی وہ علیحدہ نبی نہیں تھے بلکہ وہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھے۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نوحی سلسلہ کے ایک نبی تھے اور چونکہ وہ نوحی سلسلہ کے ایک نبی تھے اس لئے کوئی علیحدہ شریعت نہیں لائے۔چنانچہ بائبل پڑھ کر دیکھ لو صاف پتہ لگتا ہے کہ ان کی کوئی شریعت نہیں تھی لیکن جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آتا ہے وہاں شریعت کا بھی ذکر آجاتا ہے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ شرعی نبی نہیں تھے ان کے زمانہ میں نوحؑ کی شریعت پر ہی عمل ہوتا تھا۔اس کے بعد بنواسماعیل اور بنو اسحاق میں سے پہلے بنو اسحاقؑ میں نبوت آئی۔باوجود اس کے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے تھے اور بنو اسماعیل میں بعد میں آئی۔اس لئے کہ آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہونا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ مقدّر تھا کہ وہ بنو اسماعیل میں سے آئیں گے۔دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کےد ونوں بیٹوں کی نسلوں کے متعلق یہ وعدے تھے کہ ان میں نبی بھی آئیں گے اور بادشاہ بھی ہوں گے(پیدائش باب ۱۷آیت ۶ تا۲۰) اب اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سلسلہ میں نبوت پہلے آجاتی تو بنو اسحاق کے متعلق جو الٰہی وعدے تھے وہ پورے نہ ہوسکتے کیونکہ خاتم النبییّن کے بعد تو کوئی نیا سلسلہ شروع نہیں ہو سکتا تھا اس لئے پہلے اسحاق کا سلسلہ جاری کیا گیا تاکہ جب یہ ختم ہو جائے توپھر اسمٰعیل کا سلسلہ شروع ہو کیونکہ اسمٰعیلی نبی نے خاتم النبیین کی صورت میں ظاہر ہونا تھا۔بنواسحاق کے سلسلہ میں مختلف تاریخوں کے لحاظ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آٹھ سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے ہیں یا بعض لوگ چھ سو سال کا اندازہ بتاتے ہیں۔یہ متفرق اندازے ہیں جن کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے چار سو سال سے آٹھ سو سال گذرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے۔اب اگر ہم اس امر کو مدّ ِنظر رکھیں کہ حضرت عیسٰیؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو سال کا عرصہ گذرا ہے تو اسی پر قیاس کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بھی چھ سو سال کا فاصلہ ہو گا اور اسی پر قیاس کر کے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام میں بھی چودہ سو سال کا فاصلہ ہو گا جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں چودہ سو سال کا فاصلہ ہے۔بہرحال حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چھ سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے۔اس عرصہ میں نوحؑ کی شریعت تو