تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 428
غلطی سے مان آئے ہیں اب ہمیں بھی غلطی میںمبتلا کرنا چاہتے ہیں۔آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنی قوم کے سامنے یہ باتیں رکھیں اور پھر اگر خدا انہیں اور ہمیں توفیق دے تو آپ پر ایمان لے آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات ہے۔چنانچہ وہ لوگ گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو یہ تمام باتیں بتائیں۔چونکہ وہ لوگ آنے والے نبی کےمتعلق یہودیوں سے مختلف باتیں سنتے رہتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال مدینہ کے ۱۲ آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔اس طرح اسلام مکہ سے مدینہ جا پہنچا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام العقبۃ الاولٰی)۔میں سمجھتا ہوں اسی طرح بالکل ممکن ہے قصی بن حکیم نے بھی یہودی علماء اور نصاریٰ سے اس قسم کی باتیں سنی ہوئی ہوں اور ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ خدا تو ہمارے گھر میں نبوت کا چشمہ پھوڑنے والا ہے اور ہم ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے ہیں اور اسی بناء پر انہوں نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کی ہو کہ آؤ اور مکہ میں اکٹھے ہو جاؤ تاکہ آنے والے ظہور سے فائدہ اٹھا سکو۔میں نے اوپر کہا تھا کہ خدا کی انگلی نے انہیں اشارہ کیا اور وہ مکہ میں جمع ہو گئے۔لیکن اب میں کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے یہود اور نصاریٰ سے آنے والے نبی کی باتیں سنیں اور جب انہیں معلوم ہو اکہ عرب میں ایک نبی آنے والا ہے تو اپنی قومی روایات اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وعدے ملا کر انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہو کہ وہ نبی مکہ میں پیدا ہونے والا ہے۔بظاہر ان دونوں میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن درحقیقت کوئی اختلاف نہیں۔اس لئے کہ اگر انہوں نے یہود اور نصاریٰ سے سن کر ایسا کیا تب بھی یہو داور نصاریٰ نے جو کچھ بتایا وہ خدائی پیشگوئیاں تھیں اور خدائی پیشگوئیاں بھی قدرت کی انگلی ہوتی ہیں جو بنی نوع انسان کی راہنمائی کرتی ہیں۔اور اگر انہوں نے ان پیشگوئیوں کو نہیں سنا تب بھی یہ خدا ئی انگلی اور اس کی قدرت کا ایک زبردست ہاتھ تھا کہ جس بات کا انہیں دو ہزار سال تک خیال نہ آیا وہ نبیٔ عرب کے ظہور سے سوا دو سو سال پہلے انہیں یاد آگئی اور ایسی یاد آئی کہ ہزاروں تکالیف کے باوجود وہ مکہ میں آکر بس گئے۔پس اگر وہ یہود و نصاریٰ کی باتیں سن کر آئے تب بھی اور اگر وہ خود بخود آئے تب بھی، جو کچھ ہوا قدرت کے اشارہ کے ماتحت ہوا اور اس طرح اپنی قوم کو وہاں جمع کر کے وہ خدائی تدبیر کا آلۂ کار بن گئے۔پھر ہاشم کے زمانہ میں شام اور یمن کی طرف تجارتی قافلے جاری کرنے کی سکیم بھی اسی الٰہی تدبیر کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔یمن میں اس وقت مسیحیت پھیلنی شروع ہو گئی تھی اور شام میں تو مسیحیت غالب آچکی تھی۔شام سے بھاگ کر یہودی شمالی عرب میں آگئے تھے۔اسی طرح وہ یمن میں بھی چلے گئے تھے۔چنانچہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ یمن کا ایک حمیری بادشاہ جس نے بیس ہزار عیسائیوں کو زندہ جلا دیا تھا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی ہو گیا تھا یا