تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 37

معرفت پیغام بھیجنا (۵) لکھنا (۶) دوسروں سے چھپا کر بات کرنا اور (۷) حکم دیناکے ہیں۔تفسیر۔قرآن مجید میں لفظ وحی کا صلہ قرآن کریم میں وحی کا لفظ اس مقام کے سوا پینسٹھ ۶۵ دفعہ استعمال ہوا ہے اور سب جگہ اِلٰی کا صلہ آیا ہے۔پانچ مقامات اور ہیں جہاں یا تو یہ لفظ مجہولاً استعمال ہوا ہے یا حذفِ صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔حذفِ صلہ سے میری مراد یہ ہے کہ وہاں مُوْحٰی اِلَیْہِ کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس لئے ان مقامات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔بہرحال ان سب استعمالات کی موجودگی میں جبکہ قرآن کریم میں پینسٹھ دفعہ یہ لفظ اِلٰی کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور اس امر کو دیکھ کر احادیث میں بھی جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اِلٰی کے ساتھ استعمال ہوا ہے لام کا صلہ استعمال نہیں کیا گیا۔یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جگہ بھی لَھَا سے یہ مراد نہیں کہ زمین کی طرف وحی کی بلکہ لام کے معنے فِیْ کے ہیں یعنی زمین کے حق میں وحی کی اور جس کی طرف وحی ہوئی اس کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔اگر زمین کی طرف وحی کرنا مراد ہوتا تو محاورئہ قرآن و محاورئہ حدیث کو مدنظررکھتے ہوئے اس جگہ اَوْحٰی اِلَیْـھا آتا اَوْحٰی لَھَا نہ آتا۔یہ بات ہر شخص جو قرآن کریم کو پڑھنے والا ہے جانتا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے اس لئے گو یہاں مُوْحٰی اِلَیْہِ محذوف ہے اور یہ ذکرنہیں کیا گیا کہ وحی کس کو ہوئی۔لیکن اس بات کا سمجھنا مشکل نہیں کہ اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہی ذکر کیا جارہا ہے اور بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا کے معنے یہ ہیں کہ اَوْحَی اللہُ اِلٰی مُـحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَھَا۔یعنی ان عظیم الشان تغیرات پر تمہیں کوئی استعجاب نہیں ہونا چاہیے۔یہ سب تغیرات اس لئے ہوں گے کہ اس کے ان تغیرات کے متعلق پہلے سے قرآن کریم میںپیشگوئی موجود ہوگی۔گویا یہ آیت زمانہ بعد نزول کے لوگوں کو مدّ ِنظر رکھ کر ہے۔بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا اللہ تعالیٰ اس بارہ میں پہلے سے خبر دے چکا ہے اور اس نے کہہ دیا ہے کہ ایسا ضرور ہوکر رہے گا۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ یہ خبر دے چکا ہے کہ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا۔اہل زمین اپنے گند ظاہر کردیں گے اس لئے اب یہ اٹل فیصلہ ہے اور خدائی تقدیر کاہاتھ اس کو بہرحال پورا کرکے رہے گا۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کی اپنی وحی کے ذریعہ خبر دے دے اور اسے کسی مامور کی سچائی کی علامت قرار دے دے تو پھر وہ کبھی ٹلا نہیں کرتی۔بہت سے خلاف ِ فطرت جرائم ایسے ہوتے ہیں کہ جب انسان ان کی شناعت پر غور کرتا ہے تو اس کا دل اسے ملامت کرتا اور وہ ان کے ارتکاب سے رک جاتا ہے۔مگر فرماتا ہے ان افعال سے زمانہ کبھی نہیں رکے گا کیوںکہ ہمارے علم غیب نے اس زمانہ کے لوگوں کے انجام عمل کا احاطہ کیا ہواہے۔اگر اس کے خلاف انہوں نے کرنا ہوتا تو ہم وہ بات بتادیتے مگر آئندہ زمانہ کی نسلیں ہمیں ان اعمال پر تلی ہوئی نظر آرہی ہیں۔پس بے شک ان حالات کی خبریں سن سن کر تمہیں