تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 399
ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔باوجود اس کے کہ یہاں صریح طور پر اِیْلٰــــفٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے بعض مفسر اس کے معنے اِلَافٌ کے کر جاتے ہیں یعنی بجائے محبت پیدا کرنے کے وہ صرف محبت کرنے کے معنے لیتے ہیں۔حالانکہ محبت کرنے کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں محبت کرتا ہوں یا میرے دل میں محبت ہے۔لیکن محبت پیدا کرنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں دوسرے کے دل میں محبت پیدا کرتا ہوں۔دراصل اس لفظ کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ اس سے دھوکا لگ جاتا ہے۔اٰلَفَ میںدو ہمزے آتے ہیں یعنی اصل لفظ اگر لکھا جائے تو اس کی شکل یوں گی أَأْ لَفَ۔لیکن عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب دو ہمزے اکٹھے ہو جائیں تو دونوں ہمزوں کو ملا کر مد بنا دیتے ہیں۔یعنی بجائے أَأْ کہنے کے ہم اٰ کہہ دیں گے مثلاً أَأْمَنَ کو ہم أَأْمَنَ نہیں کہیں گے بلکہ ہمزوں کی جگہ مد استعمال کر کے اٰمَنَ کہہ دیں گے۔اسی طرح أَأْلَفَ کو اٰلَفَ کہہ دیں گے۔مگر عربی زبان میں اٰلَفَ کے دو وزن ہیں اور اسی وجہ سے اس کے دو الگ الگ مصدر آتے ہیں۔وہ دو فَاعَلَ اور اَفْعَلَ ہیں۔کبھی یہ لفظ فَاعَلَ کے وزن پر ہو گا اور کبھی اَفْعَلَ کے وزن پر۔جب فَاعَلَ کے وزن پر ہو تو اس کا مصدر فِعَالٌ کے وزن پر آئے گا جب فعل اَفْعَلَ کے وزن پر ہو گا تو مصدر اِفْعَالٌ کے وزن پر ہو گا بات یہ ہے کہ عربی زبان میں تمام افعال کا وزن بیان کرنے کے لئے ف۔ع۔ل۔کے حروف کو استعمال کیا جاتاہے اور ہر لفظ کا وزن انہی تین حرفوں کے ہیر پھیر سے نکالا جاتاہے۔اگر فَاعَلَ کے وزن پر کوئی لفظ بنانا ہو گا تو چونکہ فَاعَلَ میں ف کے بعد ایک الف زائد ہے اس لئے اس میں بھی ہم پہلے حرف کے بعد ایک الف زائد کر دیں گے۔اور اگر اَفْعَلَ کے وزن پر کوئی لفظ بنانا ہو گا تو چونکہ اَفْعَلَ الف پہلے حرف یعنی ف سے پہلے ہے ہم اس لفظ کے پہلے حرف کے پہلے ایک الف بڑھا دیں گے۔اس قاعدہ سے ظاہر ہے کہ اَلَفَ کے لفظ سے اگر ہم فَاعَلَ کے وزن پر لفظ بنانا چاہیں گے تو اسے اٰلَفَ لکھیں گے اور اگر اَفْعَلَ کے وزن پر لفظ بنانا چاہیں تو بھی اسے اٰلَفَ لکھیں گے لیکن فرق یہ ہو گا کہ جب فَاعَلَ کے وزن پر ہم اٰلَفَ کا لفظ بنائیں گے تو ہم یہ سمجھیں گے کہ اٰ کے دو ہمزوں میں سے پہلا ہمزہ اَلَفَ کا ہے اور دوسرا ہمزہ فَاعَلَ کے وزن کا ہے۔اور جب اَفْعَلَ کے وزن پر یہ لفظ بنائیں گے تو ہم سمجھیں گے کہ پہلا ہمزہ تو اَفْعَلَ کے وزن کا ہے اور دوسرا ہمزہ اصل لفظ کا ہے۔ورنہ ظاہری شکل ایک ہوگی۔لیکن جب ان لفظوں سے مصدر بنائیں گے تو وہ مصدر مختلف شکلوں کے ہوں گے اٰلَفَ بوزن فَاعَلَ سے بنا ہوا مصدر اِلَافٌ ہو گا اور اٰلَفَ بوزن اَفْعَلَ سے بنا ہوا مصدر اِیْلَافٌ ہوگا کیونکہ فَاعَلَ کا مصدر فِعَالٌ کے وزن پر آتا ہے اور اَفْعَلَ کا مصدر اِفْعَالٌ کے وزن پر آتا ہے۔پس جبکہ اٰلَفَ سے بنے ہوئے دونوں لفظ جو فَاعَلَ اور اَفْعَلَ کے وزن پر ہوں شکل میں ایک ہوں گے اور ان کے معنوں کا فرق صرف سیاق و سباق سے معلوم ہوگا۔مصدر کی