تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 36
ہے کہ وَحَیْتُ اِلَیْہِ یا اَوْحَیْتُ اِلَیْہِ اس وقت بولتے ہیں جب تم کسی سے کوئی ایسی بات کرو جو تم دوسروں سے چھپانا چاہتے ہو۔وَ فِی الْمِصْبَاحِ وَ بَعْضُ الْعَرَبِ یَقُوْلُ وَ حَیْتُ اِلَیْہِ وَ وَحَیْتُ لَہٗ وَ اَوْحَیْتُ اِلَیْہِ وَ لَہٗ۔اور مصباح میں لکھا ہے کہ بعض عرب صرف وَحَیْتُ اِلَیْہِ اوراَوْحَیْتُ اِلَیْہِ ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ وَحَیْتُ لَہٗ اور اَوْحَیْتُ لَہٗبھی استعمال کرتے ہیں(اقرب)۔مجمع البحار میں لکھا ہے وَیَقَعُ الْوَحْیُ عَلَی الْکِتَابَۃِ کہ وحی کا لفظ کتابت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یعنی اگر ہم وحی کا لفظ بولیں تو اس کے صرف یہی معنے نہیں ہوں گے کہ کوئی بات کی بلکہ یہ بھی معنے ہوں گے کہ کوئی بات لکھ دی۔وَالْاِشَارَۃِ اور اگر اشارہ سے بات کی جائے تو اس کے لئے بھی وحی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔والرسالۃ اسی طرح کسی کی معرفت اگر کوئی پیغام بھیجا جائے تو اسے بھی وحی کہہ دیتے ہیں۔وَالْاِلْھَامِ الہام کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔وَالْکَلَامِ الْـخَفِیِّ اور وحی کا لفظ کلام خفی پر بھی دلالت کرتا ہے۔لیکن مجمع البحار والے اس کے ساتھ یہ تصریح کرتے ہیں کہ اس کا صلہ ہمیشہ الٰی آتا ہے۔ان کے نزدیک عربی زبان میں اس لفظ کو یوں ہی استعمال کریں گے کہ وَحَیْتُ اِلَیْہِ الْکَلَامَ وَاَوْحَیْتُ۔پھر لکھتے ہیں’’ وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰى‘‘ وَحْیُ اِعْلَامٍ لَا اِلْھَامٍ لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی ’’اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ‘‘۔اور یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰى یہ وحیٔ اعلام ہے نہ کہ وحیٔ الہام۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ ہم اسے تیری طرف لوٹائیں گے یعنی لفظی وحی تھی دل کا خیال نہ تھا (علماء سابق اصطلاح میں دل کے خیال کو الہام کہتے تھے اور اسی وجہ سے وہ وحی اور الہام میں فرق کرتے تھے حالانکہ یہ فرق ان کا خیالی تھا شریعت سے اس کی سند نہیں ملتی۔بہرحال جب پرانے علماء کی کتب میں الہام کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے اکثر دل میں خیال ڈالے جانے کے ہوتے ہیں)۔اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ : اَمَرْتُـھُمْ۔یعنی قرآن کریم میں جو آتا ہے کہ میں نے حواریوں کی طرف وحی کی اس کے معنے یہ ہیں کہ میںنے ان کو حکم دیا۔پھر لکھتے ہیں یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ (النحل:۶۹) تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی اس کے معنے یہ ہیں اَلْھَمَھَا اس کو الہام کیا ان کی طبیعت میں یہ خواہش پیدا کر دی۔فَاَوْحٰی اِلَیْـھِمْ۔اَوْمٰی۔اور یہ جو قرآن کریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ اَوْحٰی اِلَیْـھِمْ زکریا نے اپنے ساتھیوں کی طرف وحی کی اس کے معنے ہیں اَوْمٰی انہوں نے اشارہ کیا۔وَقِیْلَ کَتَبَ بِیَدِہٖ فِی الْاَرْضِ(مجمع البحار)۔اور بعض نے کہا ہے کہ اس جگہ وحی کا لفظ بمعنی کتابت استعمال ہوا ہے اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ انہوں نے لکھ کر اپنے ساتھیوں کو بتایا۔ان حوالجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کے معنے (۱) کسی کام پر مبعوث کرنا (۲) دل میں بات ڈالنا (۳) اشارے سے بات سمجھانا (۴) کسی پیغامبر کی