تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 35
میں جہاں بھی ذکر آتا ہے مسیح موعودؑ کے زمانہ کے متعلق ہے اور قرآن کریم میں جہاں قیامت کے دن شہادت دینے کا ذکر آتا ہے وہاں ہاتھوں اور پائوں کے بولنے کا تو ذکر آتا ہے مگر زمین کا نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت موجودہ زمانہ کے متعلق ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی خبر دی گئی ہے کہ لوگ اپنے گند اخباروں میں ظاہر کریں گے۔کتابوں اور ڈائریوں میں ان کو شائع کریں گے اور خوش ہوں گے کہ انہوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے گویا جن امور کو لوگ پہلے چھپایا کرتے تھے ان کو مزے لے لے کر بیان کریں گے اور شرم اور حیا کا مفہوم اس زمانہ میں بالکل بدل جائے گا۔چنانچہ یہ اخبارہر بڑے مرد اور عورت کے پیچھے آدمی لگاتے ہیں اور ان کے مخفی حالات اخباروں میں چھاپتے اور ان کی بِکری سے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔بعض ادنیٰ اخبار بلیک میلنگ سے روپے کماتے ہیں۔اسی طرح عورتیں، شریف کہلانے والی عورتیں بڑے بڑے معزز اور بارسوخ خاندانوں کی عورتیں ڈائریاں لکھتی ہیں جن میں نہایت بے حیائی سے اپنی کرتوتیں بیان کرتی ہیں اور پھر وہ ڈائریاں ہزاروں کی تعداد میں چھپتی اور لوگوں کے مطالعہ میں آتی ہیں۔غرض ایک اندھیر ہے جو مچ رہا ہے اور ایک زلزلۂ عظیمہ ہے جو دنیا پر آیا ہوا ہے۔گذشتہ تاریخ پر غور کرکے دیکھ لو اس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں یہ زلزلۂ عظیمہ آیا اور جس میں اللہ تعالیٰ کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی کہ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا۔بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ۰۰۶ اس لئے کہ تیرے رب نے اس (زمین) کے حق میں وحی کر چھوڑی ہے۔حلّ لُغات۔اوحٰی۔اَوْحٰی اِلَیْہِ اِیْـحَاءً کے معنے ہوتے ہیں بَعَثَہٗ۔اس کو کسی مقصد کے لئے کھڑا کیا اور اَوْحٰی بِکَذَا کے معنے ہیں اَلْھَمَہٗ بِہٖ کسی کے دل میں کوئی بات ڈالی۔اور وَحٰی بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے چنانچہ وَحٰی اِلیہِ (یَـحِیْ وَحْیًا) کے معنے ہیں اَشَارَ اس نے اشارہ کیا۔اَرْسلَ اِلَیْہِ رَسُوْلًا اس کی طرف پیغامبربھیجا۔اور وَحَی اللہُ فِیْ قَلْبِہٖ کے معنے بھی اَلْھَمَہٗ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں فلاں بات ڈالی اور وَحَی اِلٰی فُلَانٍ اَلْکَلَامَ کے معنے ہیں کَلَّمَہٗ خَفِیًّا اس کے ساتھ دوسروں سے علیحدہ ہوکر مخفی رنگ میں بات کی۔وَفِی الْاَسَاسِ وَحَیْتُ اِلَیْہِ وَ اَوْحَیْتُ اِذَا کَلَّمْتَہٗ بِـمَا تُـخْفِیْہِ عَنْ غَیْرِہٖ۔زمخشری کی کتاب اساس میں لکھا