تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 377

بندوں نے قربانی پیش کر دی ہے اب اگر میں ان کی مدد کے لئے نہ گیا تو مجھ پر بے وفائی کا الزام عائد ہو گا۔مگر افسوس اس طرف کوئی توجہ نہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ ہے۔کہیں منسٹریوں کے جھگڑے کی طرف توجہ ہے کہیں کسی اور بات کی طرف توجہ ہے۔لیکن اگر توجہ نہیں تو اسی مقصود کی طرف جس سے ان کی زندگی اور ایمان وابستہ ہے۔دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار اس وقت خطرہ میں ہے۔یہود اس کے دروازہ پر طاقت پکڑتے جار ہے ہیں اور یہود کے ارادے یہ ہیں کہ وہ سارے عرب کے علاقہ پر قبضہ کر لیں۔کہا جاتا ہے کہ آج سے کئی سو سال پہلے جبکہ یہود کو کوئی طاقت حاصل نہیں تھی وہ مدینہ میں مسلمان بن کر گئے اور انہوں نے سرنگ لگا کر یہ کوشش کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک کو نکال لیں اور اس کی بے حرمتی کریں۔اچانک اس وقت کے مسلمان بادشاہ کو خواب آگئی اور اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں اسے وہ یہود دکھا دیئے جو یہ شرارت کر رہے تھے اور وہ گرفتار کر لئے گئے۔اگر وہی قوم جس نے اپنی ذلّت اور بے کسی کے زمانہ میں بھی ہمارے آقا کی ہتک کرنے میں کوتاہی نہیں کی اسے عرب اور شام کی حکومت مل گئی تو وہ کیا کچھ نہیں کرے گی۔پس کتنا بڑا خطرہ ہے جو اس وقت اسلام کو درپیش ہے۔مگر افسوس کہ مسلمان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جو اصل مقصود ہے وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہے حالانکہ اس وقت قربانی اور صرف قربانی ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے اسلام دنیا میں پھر زندہ ہو سکتا ہے۔اگر ہم اس لڑائی میں مارے بھی جاتے ہیں تو کیا ہوا عزت کی ایک گھنٹہ کی زندگی ہزار سالہ بے عزتی کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔یقیناً کوئی باغیرت مومن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ بے عزتی کی زندگی بسر کرے وہ عزت کی موت کو بے عزتی کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر سمجھے گا۔غرض اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کے ذریعہ آئندہ زمانہ کے متعلق ایک بہت بڑی پیشگوئی فرمائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں پھر مسیحیت اپنے زور میں آکر اسلام کو توڑنے کی کوشش کرے گی مگر جس طرح سابق میں ہوا اللہ تعالیٰ آئندہ زمانہ میں بھی اسلام کو دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔اور اس کا وہی انجام کرے گا جو اصحاب الفیل کا ہوا۔جیسا کہ میں اوپر اشارہ کر چکا ہوں زمانۂ بعثت اولیٰ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عربوں نے اپنے بچوں کے نام محمد رکھنے شروع کر دیئے تھے۔کہتے ہیں ’’ہونہار برو اکے چکنے چکنے پات۔‘‘ جب انہوں نے سنا کہ آنے والے نبی کا نام محمد ہو گا تو انہوں نے کہا چلو ہم بھی اپنے بچوں کا نام محمد رکھ دیں شاید یہی اصل محمد ہوجائے۔اس بڑھتی ہوئی رَو کو دیکھ کر عیسائیت کو سخت فکر پیدا ہوا اور اس نے چاہا کہ خانۂ کعبہ کو تباہ کر دے تاکہ عرب