تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 34
سمجھتا ہوں کہ وہ حدیث اسی زمانہ کے بارہ میں ہے۔احمد، ترمذی اور نسائی نے روایت کی ہے (گو الفاظ روایت احمد کے ہیں) کہ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَرَأَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا قَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا اَخْبَارُھَا قَالُوْا اَللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّ اَخْبَارَھَا اَنْ تَشْھَدَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ وَّ اَمَۃٍ بِـمَا عَـمِلَ عَلٰی ظَھْرِہَا اَنْ تَقُوْلَ عَـمِلَ کَذَا وَ کَذَا یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا فَھٰذِہٖ اَخْبَارُھَا۔( مسند احمد، مسند ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ) یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا پھر آپ نے فرمایا اَتَدْرُوْنَ مَا اَخْبَارُھَا اے میرے صحابہؓ! کیا تم جانتے ہو کہ اس کی اخبار کیا ہیں؟ قَالُوْا اَللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔قَالَ فَاِنَّ اَخْبَارَھَا اَنْ تَشْھَدَ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ وَّ اَمَۃٍ بِـمَا عَـمِلَ عَلٰی ظَھْرِہَا۔اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہرانسان یعنی ہر مرد اور عورت کے متعلق یہ بیان کرے گی کہ اس نے کیا کیا ہے۔اَنْ تَقُوْلَ عَـمِلَ کَذَا وَ کَذَا یَوْمَ کَذَا وَ کَذَا۔وہ یہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن یہ کام کیا ہے اور فلاں دن یہ کام کیا۔چونکہ اس آنے والے دن کے بارہ میں محدثین کو علم نہ تھا انہوں نے اسے قیامت پر لگایا ہے حالانکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ حدیث اسی زمانہ کے متعلق ہے۔اسی زمانہ میں اس قسم کے اخبارات شائع ہورہے ہیں جن میں لوگوں کے تمام عیوب بیان کئے جاتے ہیں اور لوگ ان اخبارات کو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔لنڈن کا ایک اخبار تھا جس کی نسبت میں نے سنا ہے کہ ایک لاکھ چھپتا ہے اور صبح صبح چوری چھپے ہر شخص خواہ وہ اعلیٰ حیثیت کا مالک ہو یا ادنیٰ حیثیت کا اسے مزے لے لے کر پڑھتا تھا۔اس اخبار میں یہی لکھا ہوتا تھا کہ فلاں کی بیوی نے یہ کیا اور فلاں کی بیٹی نے یہ کیا۔حتی کہ بعض جگہ شاہی خاندان کے متعلق بھی اشارے ہوتے تھے کہ آج صبح فلاں کو ایک بند گاڑی میں فلاں مکان کے دروازہ کے پاس دیکھا گیا ہم حیران ہیں کہ وہ وہاں کیوں گئے؟ اور کیوں ان کی گاڑی اس دروازہ پر کھڑی دیکھی گئی؟ میں سمجھتا ہوںحدیث میں اسی طرف اشارہ ہے۔مفسرین نے اسے غلطی سے قیامت پر چسپاں کردیا ہے حالانکہ قیامت کے ذکر میں قرآن کریم میں یہ کہیں بیان نہیں کیا گیا کہ اس روز زمین بھی کلام کرے گی۔یہ تو آتا ہے کہ ہاتھ بولیں گے یا پائوں بولیں گے اور وہ انسان کے خلاف شہادت دیں گے مگر یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ اس روز زمین بھی بولے گی۔لیکن مسیح موعودؑ کے زمانہ کے متعلق بالوضاحت احادیث میں ذکر آتا ہے کہ اس وقت زمین کلام کرے گی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے مسیح موعودؑ کے زمانہ میں وہ پتھر جس کے پیچھے کافر چھپا ہوا ہوگا بول اٹھے گا اور کہے گا اے نبی اللہ یہ کافر چھپا ہوا ہے۔(بخاری کتاب الجھاد و السیر باب قتال الیھود) غرض زمین کے بولنے کا حدیثوں