تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 372
ہرشخص کےد ل میں اپنے مذہب کا احترام ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اپنے مذہب کے خلاف دوسرے سے کوئی بات سنے اور عرب بھی اس عقیدت کے جذبات سے خالی نہیں تھے ابرہہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا تھا کہ عربوں کو خانۂ کعبہ سے گہری عقیدت ہے اور وہ اس کو چھوڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہو سکتے مگر اس کے باوجود اس کا بعض عرب رؤوسا کو خانۂ کعبہ کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے لے مقرر کرنا اور پھر خانۂ کعبہ کو گرانے کی کوشش کرنا بتاتا ہے کہ یہ ایک سیاسی چال تھی جو غلبۂ عیسائیت کے لئے اختیار کی گئی تھی اور جس کے پیچھے اس کا بڑا مقصد یہ تھا کہ عربوں میں ایک نبی کی آمد کے متعلق جو احساس پیدا ہو رہا ہے اس کے خلاف ان کی توجہ کو پھیر دے اور عربوں کا شیرازہ بالکل بکھیر دے۔یہ ایک نہایت ہی گندی سیاسی غرض تھی جس کے لئے اس نے حملہ کیا پس ایسا شخص ضرور سزا کا مستحق تھا اور خدا تعالیٰ نے اسے سزا دی۔دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ وہ ہتک کا بدلہ لینے گیا تھا اس کو سزا کیوں ملی۔اس کا ایک جواب تو آچکا ہے کہ ہتک تو ایک عرب نے کی تھی مگر وہ خود عرب والوں سے امان کا وعدہ کرتا ہے۔چنانچہ جہاں بھی عربوں نے اس سے یہ کہا ہے کہ خانۂ کعبہ کو بے شک گرا لو ہم تمہارے ارادہ میں مزاحم نہیں ہوتے وہاں اس نے ان سے صلح کر لی ہے اگر وہ ہتک کابدلہ لینے گیا تھا تو اسے اس عرب پر غصہ آنا چاہیے تھا جس نے گرجا میں پاخانہ کیا۔اس کے قبیلہ پر غصہ آنا چاہیے تھا۔اس کی قوم پر غصہ آنا چاہیے تھا مگر یہ کیا کہ وہ سیدھا خانہ کعبہ کا رخ کرتا ہے اور عربوں سے بار بار کہتا ہے کہ مجھے تم سے کوئی عداوت نہیں اگر تم میرے راستہ میں روک نہ بنو تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔پس یہ کہنا کہ وہ ہتک کابدلہ لینے کے لئے گیا تھا واقعات کے بالکل خلاف ہے۔دوسرے انسان کی ہتک کا کسی معبد سے بدلہ لینا عقل کے بالکل خلاف ہے اور پھر مرکزی معبد کو گرانے کی کوشش کرنا تو اور بھی قابلِ نفرین فعل ہے۔یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ صنعاء کا گرجا عیسائی قوم کا کوئی مرکزی معبد نہیں تھا لیکن خانۂ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے ایک مرکزی معبد چلا آتا تھا۔اگر ایک عام معبد کی ہتک کا بدلہ لینے کے لئے کسی مرکزی معبد کو گرانے کی کوشش کرنا عیسائیوں کے نزدیک جائز ہے تو کیا وہ پسند کریں گے کہ مسلمان اپنی بعض مساجد کی ہتک کا بدلہ لینے کے لئے یروشلم کا گرجا گرا دیں؟ لاہور میں ریلوے سٹیشن کے قریب ایک پرانی مسجد تھی جس میں ریلوے کا ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا جاتا تھا۔انگریزوں نے اپنے زمانہ میں اس میں بعض دفعہ کتے بھی باندھے ہیں۔مسلمانوں نے اس مسجد کو آزاد کرانے کے لئے ایک دفعہ ایجی ٹیشن کی جس پر ریلوے کا کباڑ خانہ اس میں سے اٹھا لیا گیا اور مسجد بحال کر دی گئی مگر اس کے بعدبھی یہ مسجد ویران پڑی رہی اب شاید