تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 370

اور انصاف پسند آدمی اس طریق کو درست ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔واقعہ یہ ہے کہ ابرہہ اہلِ مکہ کا معبد گرانے کے لئے نکلا تھا اور یہ ایک نہایت ہی ظالمانہ فعل تھا بے شک وہ مسیحی تھا لیکن وہ ظالم مسیحی تھا اور ظالم کی مدد کرنا تو کسی شریف انسان کا کام بھی نہیں ہو سکتا کجا یہ کہ خدا تعالیٰ سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ ظالم کی مدد کرے اور مظلوم کو کچل دے محض اس لئے کہ ظالم مسیحی ہےاور مظلوم بت پرست۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ حملہ کفار پر نہیں تھا کفار کو تو اس نے امان دینے کا وعدہ کیا تھا۔یہ حملہ سراسر خانۂ کعبہ پر تھا۔چنانچہ دیکھ لو قلیس میں پاخانہ کس نے پھرا تھا ایک عرب نے پھرا تھا مگر وہ حملہ کے لئے خانۂ کعبہ کی طرف آدوڑا۔کیا خانۂ کعبہ نے پاخانہ پھرا تھا یا خانۂ کعبہ پاخانہ پھرا کرتا ہے؟ پاخانہ پھرنے والا ایک عرب تھا مگر وہ حملہ خانۂ کعبہ پر کرتا ہے بے شک عیسائی تعلیم کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی سج جاتی ہے کیونکہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قصور لوگوں نے کیا اور صلیب پر اللہ تعالیٰ نے مسیحؑ کو چڑھا دیا۔لیکن کوئی عقل منداور شریف انسان اس قسم کی بات کو جائز قرار نہیں دے سکتا کہ قصور کوئی کرے او رسزا کسی کو دی جائے۔بائبل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کو سزا دینی جائز نہیں۔چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جب بن یامین کو اپنے ساتھ لے کر مصر گئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے چاہا کہ کسی طرح وہ بن یامین کو اپنے پاس رکھ لیں۔مگر انہوں نے اپنے اس ارادہ کا کسی پر اظہار نہ کیا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نےا یسے سامان پیدا کر دیئے کہ جن کے ماتحت وہ قانوناً اپنے بھائی کو پکڑ سکتے تھے۔سرکاری پیالہ کہیں گم ہو گیا اور اس کی ادھر ادھر تلاش شروع ہو گئی۔ابھی اس پیالہ کی تلاش ہی ہو رہی تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے شک کی بنا پر اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ اگر چوری کی کوئی چیز کسی کے پاس سے نکل آئے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ انہوں نے کہا چور کی یہی سزا ہے کہ اسے گرفتار کر لیا جائے۔تھوڑی دیر گذری تو بن یامین کے سامان میں سے سرکاری پیالہ نکل آیا۔اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اب بن یامین کو واپس جانے نہیں دیا جائے گا۔یہ سن کر ان کا ایک بھائی آگے بڑھا اور اس نے کہا اس لڑکے کاباپ بہت بڈھا ہے اور اس کا پہلے ہی ایک بیٹا گم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اسے بڑی تکلیف ہے اگر یہ بھی اب واپس گھر نہ پہنچا تو اس کی تکلیف اور بھی بڑھ جائے گی۔اس لئے اے بادشاہ میں اپنے آپ کو اس کی جگہ پیش کرتا ہوں مجھے قید کر لیا جائے اور اس کو رہا کر دیا جائے۔اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ میں ظالم نہیں کہ بے قصور کو پکڑ لوں اورجس کا قصور ہو اسے جانے دوں۔گویا بائبل بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ ظلم کوئی کرے اور پکڑا کوئی جائے یہ نہایت ظالمانہ فعل ہے مگر عیسائی ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ گناہ لوگوں نے کیا اور صلیب خدا نے حضرت مسیح کو دے دی۔دوسرے مذاہب