تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 369

غیرمسیحی سے کیا تعلق ہے؟ خدا تو عدل و انصاف اور راستی اور صداقت کو دیکھتا ہے اگر تو وہ یہ کہتا کہ ابرہہ حق پر تھا اور مکہ والے ناحق پر۔اس لئے عذاب مکہ والوں پر آنا چاہیے تھا نہ کہ ابرہہ پر۔تب بھی کوئی بات تھی(اس نے آگے چل کر یہ دلیل بھی دی ہے مگر اس کا جواب میں الگ دوں گا) لیکن وہ کہتا یہ ہے کہ مسیحیوں کو کافروں کے مقابلہ میں کیوں سزا دی گئی۔یہ تو ویسی ہی ظالمانہ بات ہے جیسے بعض لوگ اپنے آدمی کی رعایت کر دیتے ہیں حالانکہ وہ ظالم ہوتا ہے اور دوسرے آدمی کو برا بھلا کہتے ہیں حالانکہ وہ مظلوم ہوتا ہے۔کیا ہمارا خدا بھی نعوذ باللہ ایسا ہے کہ وہ عدل و انصاف کو تو مدّ ِنظر نہ رکھے اور محض مسیحی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تائید کرتا پھرے۔اگر پادری وہیری اپنے خدا کو ایسا سمجھتے ہیں تو الگ بات ہے اسلام جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ اس قسم کا ظالمانہ سلوک نہیں کرتا بلکہ اسلام تو بنی نوع انسان کو بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ تم مظلوم کا ساتھ دو اور ظالم کو اس کے ظلم سے روکو خواہ وہ تمہارا باپ ہو یا بھائی۔دوست ہو یا کوئی اور عزیز رشتہ دار۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ صحابہؓ بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا اُنْصُـرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا۔اے میرے پیروؤ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے بھائیوں کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہوں یا مظلوم۔صحابہؓ کو یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی تعلیم کے خلاف نظر آئی اور وہ حیران ہوئے کہ یہ الٹی بات کیا کہی جارہی ہے کہ مظلوم کے علاوہ ظالم کی بھی مدد کرو۔چنانچہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مظلوم کی مدد کرنے والی بات تو ہماری سمجھ میں آتی ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم ظالم کی کس طرح مدد کریں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظالم کی مدد کرنے کا یہ مطلب ہے کہ تم اسے ظلم سے روکو کیونکہ اگر وہ ظلم کرے گا تو تباہ ہوجائے گا۔(بخاری کتاب المظالم باب أعن اخاک ظالمًا اَوْ مَظْلُوْمًا) اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم سے بھی روک دیا۔مگر ایسی طرز پر کہ بات ان کے دلوں میں گھر کر گئی۔اگر آپؐیہ فرماتے کہ ظالم کی مدد نہ کرو تو کئی لوگ یہ کہنے لگ جاتے کہ اپنے بھائی بندوں کی تو بعض دفعہ مدد کرنی ہی پڑتی ہے مگر جب آپ نے اسی بات کو اس رنگ میں بیان فرمایا کہ اگر تم ظالم کی مدد کرو گے تو تم خود اسے تباہ کر دو گے تو مقصد بھی پورا ہو گیا اور بات بھی سننے والوں کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی۔پس اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ حق و انصاف کی مدد کی جائے لیکن یہ پادری صاحب خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ انسان سے بھی زیادہ بداخلاق سمجھتے ہیں کہ اس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی خاص مذہب اور خاص فرقہ کی تائید کیا کرے، عدل اور انصاف کو ملحوظ نہ رکھا کرے۔ہم تو نہیں سمجھتے کہ عیسائی مذہب سچا ہے۔لیکن فرض کرو کہ وہ سچا ہے تو کیا پادری وہیری یہ سمجھتا ہے کہ اگر سچے مذہب کا پیرو ظلم بھی کرے تب بھی اس کی تائید کی جائے اور مظلوم کو اس کا حق نہ دیا جائے۔بے شک مغربی قوموں کا آج کل یہی طریق عمل ہے مگر کوئی شریف