تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 33

اسّی۸۰ گز نیچے ہے یا یہ بتارہی ہوتی ہے میرے نیچے سونے کی کان ہے اور یہ بھی بتارہی ہوتی ہے کہ وہ سونے کی کان اتنی دور ہے یا یہ بتارہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے پتھر کا کوئلہ ہے اور یہ بھی بتارہی ہوتی ہے کہ وہ پتھر کا کوئلہ اتنی دور ہے۔اسی طرح بتارہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے یورینیم یا پلاٹینم یا فلاں دھات ہے اور یہ بھی بتارہی ہوتی ہے کہ یہ دھاتیں اتنی گہرائیوں پر ہیں۔اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا کے نیچے جو یہ معنے بتائے گئے تھے کہ لوگ اپنے گندے خیالات بیان کرنے لگ جائیں گے ان کے لحاظ سے اس آیت کہ یہ معنے بھی ہوں گے کہ نہ صرف لوگوں کے دبے ہوئے خیالات اس زمانہ میں ظاہر ہونے لگ جائیں گے بلکہ اہل زمین اپنے ان عیوب کو الم نشرح کرنے میں لذت محسوس کریں گے یا دوسروں کے عیوب شائع کرنے میں انہیں خاص لطف محسوس ہوگا اور وہ انتہائی دلچسپی کے ساتھ اس کام میں حصہ لیں گے۔چنانچہ تمام یورپ، امریکہ بلکہ ایشیائی ممالک میں بھی آج کل ایسے اخبارات نکلتے ہیں جن کوسوسائٹی گاسپ کہا جاتا ہے۔یہ اخبار اس کثرت سے دنیا میں شائع ہونے لگ گئے ہیں اور اس طرح مزے لے لے کر ان کو پڑھا جاتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ان اخبارات کو چلانے والے بھی لاکھوں روپیہ اس بات پر خرچ کردیتے ہیں کہ انہیں کسی بڑے شخص کے راز معلوم ہوجائیں۔خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور پھر جب وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان رازوں کو اخبارات کے ذریعہ شائع کیا جاتا ہے اور دنیا میں ان کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ لوگ خود اپنے شہوانی جذبات کی نسبت بالتفصیل کتب لکھنے لگ گئے ہیں صرف قانون کی زد سے بچنے کے لئے ان کتابوں پر یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ کتابیں صرف ڈاکٹروں اور فلاسفروں کے لئے لکھی گئی ہیں عام لوگوں کے لئے نہیں۔تاکہ یہ سمجھا جائے کہ ان کتابوں کی اشاعت محض علمی اغراض کے ماتحت کی جارہی ہے کوئی نفسانی خواہش ان کتب کی اشاعت کی محرک نہیں ہے۔اس قسم کی بعض کتابیں میں نے بھی پڑھی ہیں۔مثلاً امریکہ کے بارہ ڈاکٹروں نے آپس میں قسمیں کھاکر عہد کیا کہ علم شہوت چونکہ ایک مخفی علم ہے اور لوگوں کو اس کی تمام تفاصیل کا صحیح طور پر علم نہ ہونے کی وجہ سے کئی قسم کے دھوکے لگ جاتے ہیں اس لئے ہم اس قسم کی تمام باتوں کو بغیر کسی حجاب کے ظاہر کریں گے۔چنانچہ انہوں نے بارہ کتابیں لکھی ہیں جن میں اپنے جذبات کو انہوں نے ننگے الفاظ میں بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب ہم میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں تو ہمارے یوں جذبات ہوتے ہیں، ہم اس طرح حرکات کرتے ہیں اور اس اس رنگ میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ان بارہ کتابوں میں سے ایک کتاب میں نے بھی پڑھی ہے۔زمین کے اپنے اخبار بیان کرنے سے مراد ایک حدیث بھی ان معنوں کی تصدیق کرتی ہے۔میں