تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 362

تھے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو قرآن اپنے آپ کو خدائی کتاب کہتا ہے اور دوسری طرف وہ یہ بتاتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں کچھ بھی غیرت نہیں تھی اس نے مسیح ناصری پر ایمان لانے والوں اور اپنی ایک کتاب کو الہامی تسلیم کرنے والوں کو تو ذلیل کیا اور مارا اور جو بُت پرست تھے جن کو تمام قرآن میں برا بھلا کہا گیا ہے اور جو یقیناً اہل کتاب کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے ان کو بچایا اور ان کی تائید میں اپنے فرشتے نازل کئے۔وہ کہتا ہے یہ ایک نہایت ہی لغو اور عقل کے خلاف بات ہے اور اس سے خدا تعالیٰ پر بہت بڑا الزام عائد ہوتا ہے۔دوسری بات وہ یہ کہتا ہے کہ خود تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک عرب گیا اور اس نے صنعاء کے گرجا میں پاخانہ کر دیا اور اس طرح مسیحی قوم کے ایک مقدس معبد میں پاخانہ کر کے اس نے تمام قوم کو مشتعل کیا۔جب اس کی خطا ثابت ہے اور ابرہہ اسی ہتک کا بدلہ لینے کے لئے گیا تھا تو چاہیے تھاکہ ابرہہ کی تائید کی جاتی مگر قرآن یہ بتاتا ہے کہ جو شخص محض اپنے معبد کی ہتک کا بدلہ لینے کے لئے گیا تھا اسے تو شدید سزا ملی اور جس قوم کا ایک فرد گرجا میں پاخانہ کر کے آگیا تھا اس قوم کی تائید کی گئی حالانکہ سزا ظالم کو ملنی چاہیے تھی نہ کہ مظلوم کو۔جہاں تک اس کی عبارت اور اعتراض سے پتہ چلتا ہے پادری وہیری کو نفس واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں وہ یہ نہیں کہتا کہ ابرہہ نے حملہ نہیں کیا تھا یا حملہ کرنے تو گیا تھا مگر مارا نہیں گیا تھا۔وہ اس تمام واقعہ کو تسلیم کرتا ہے مگر اس میں سے جو درسِ عبرت نکالا گیا ہے پادری وہیری کو اس پر اعتراض ہے اور وہ اسے درست تسلیم نہیں کرتا۔لیکن اگر واقعہ درست ہے تو درسِ عبرت پر اسی صورت میں اعتراض ہو سکتا ہے جب یہ کہا جائے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اسے نشان یا معجزہ قرار دینا درست نہیں۔پس پادری وہیری اگر کہہ سکتا تھا تو یہ کہ تم جو کہتے ہو کہ خدا نے ابرہہ کو ہلاک کیا اور اس پر عذاب نازل کیا یہ درست نہیں واقعہ ٹھیک ہے اس کی ہلاکت میں کوئی شبہ نہیں۔ابرہہ واقعہ میں حملہ کے لئے گیا اور ایک بہت بڑا لشکر اپنےساتھ لے گیا مگر جو تباہی اس پر واقعہ ہوئی یا وہ تباہی جس کا سامنا اس کے لشکر کو کرنا پڑا وہ کوئی خدائی فعل نہیں تھا بلکہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اور اس کی وجہ سے مکہ کی عظمت اور اس کی بڑائی کو پیش کرنا اور ابرہہ کی تذلیل کرنا درست نہیں۔اور واقعہ میں اگر یہ اتفاقی حادثہ ثابت ہو تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ نہ اس سے خانۂ کعبہ کی کوئی عظمت ظاہر ہوتی ہے اورنہ ابرہہ کی تذلیل ہوتی ہے۔جیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص حج کے لئے جائے مگر بمبئی میں پہنچتے ہی اسے ہیضہ ہو جائے اور وہ مر جائے۔اب کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ دیکھو اس پر اس لئے عذاب نازل ہو اہے کہ وہ حج کے لئے جارہا تھا۔ہر شخص اسے اتفاقی حادثہ قرار دے گا یا ہو سکتا ہے کہ حاجیوں کا کوئی جہاز جا رہا ہو اور سمندر میں طوفان آجائے اور وہ جہاز غرق ہو جائے مگر کوئی شخص اسے عذاب