تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 32
دوسرے معنے یہ ہوسکتے ہیں کہ اَلْاِنْسَانُ سے ہر انسان مراد نہ ہو بلکہ کامل انسان مراد ہو۔اس صورت میں آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ کامل انسان دنیا کی عریانی اور لامذہبیّت کی حالت دیکھ کر کہے گا کہ اس دنیا کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے اس قدر دور چلی گئی ہے۔يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۰۰۵ اس دن وہ اپنی (ساری ہی پوشیدہ) خبریں بیان کردے گی۔تفسیر۔یہ نیا مضمون بھی ہوسکتا ہے اور اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا کی تشریح بھی ہوسکتا ہے۔نئے مضمون کے لحاظ سے میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں کہ پیدائش زمین کے بارہ میں اس سے پہلے دنیا کو ایک مجمل اور ناقص علم حاصل ہوگا مگر فرماتا ہے اس زمانہ میں علم سائنس جیالوجی کی شکل میں اس قدر ترقی کرجائے گا کہ زمین کی بناوٹ اور شعاعوں اور لہروں وغیرہ کے ذریعہ سے زمین کی پیدائش کے مسئلہ پر بہت کچھ روشنی پڑنے لگے گی گویا اَخْبَارَهَا سے مراد یہ ہے کہ زمین اپنی حقیقت اور کیفیت پیدائش کے بارہ میں بہت کچھ باتیں بتانے لگ جائے گی۔یہ اس لئے فرمایا کہ علم جیالوجی کا بڑا مدار خود مٹی کی ماہیت اور اس کے رنگوں اور اس کی تہوں پر ہے۔یہ نہیں کہ کسی اور ذریعہ سے وہ ان معلومات کو حاصل کرتے ہیں بلکہ علم جیالوجی کے ماہرین مٹی کا رنگ دیکھ کر بتادیتے ہیں کہ اس اس قسم کے تغیرات زمین پر گذرے ہیں اس کی تہوں سے اندازہ لگا کر بتادیتے ہیں کہ اس تہہ پر یہ شکل ہے اور اس تہہ پر یہ شکل ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے فلاں تغیر واقعہ ہوا اور پھر فلاں تغیر پیدا ہوا۔اسی طرح مٹیوں کے رنگوں اور ان کی بوئوں سے اب کانوں وغیرہ کے پتہ لگانے کا علم نکل آیا ہے۔اس علم کے ماہر انجینئر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور پتھروں کو اٹھا اٹھا کر دیکھتے یا زمین کو سونگھتے ہیں اور بتاتے جاتے ہیں کہ یہاں فلاں قسم کی کانیں دفن ہیں۔اسی طرح بجلی کی رَو کے ذریعہ سے کانوں کی اقسام اور ان کی گہرائیوں کا پتہ لیا جاتا ہے۔یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ زمین میں کس چیز کی کان ہے۔لوہے کی ہے یا پیتل کی ہے اور پھر یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ وہ سوگز نیچے ہے یا دو سو گز نیچے ہے یا چار سو گز نیچے ہے۔غرض اس ذریعہ سے زمین اپنی خبریں بتارہی ہے۔وہ زمین جوپہلے گونگی تھی اب کلام کرنے لگ گئی ہے۔عام لوگ گذرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ زمین خاموش ہے وہ کچھ کہہ نہیں رہی۔لیکن ایک انجنیئر گذرتا ہے تو وہ سنتا ہے کہ زمین اسے یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ میرے نیچے مٹی کا تیل ہے اور وہ یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ وہ