تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 335
پر پہنچے۔چونکہ عرب کے لوگ جیسا کہ اگلی سورۃ میں ذکر آئے گا اکثر سفر کرتے رہتے تھے۔بعض یمن کی طرف جاتے تھے ،بعض شام کی طرف جاتے تھے، بعض حبشہ کی طرف جاتے تھے، بعض عراق کی طرف جاتے تھے(تاریخ مکہ مکرمہ زیر عنوان معاشی استحکام صفحہ ۱۹۵)۔اس لئے ان علاقوں کے رہنےو الے لوگوں کے ساتھ ان کی دوستیاں اور تعلقات تھے انہی سفروں کی وجہ سے حضرت عبدالمطلب کے بھی ذونفر حمیری کےساتھ تعلقات تھے جو دوستانہ حد تک پہنچے ہوئے تھے۔جب باتوں باتوں میں انہیں حیاطہ سے معلوم ہوا کہ ذونفر نے بھی مکہ کے بچانے کے لئے ایک لشکر جمع کیا تھا اور ابرہہ کے ساتھ لڑائی بھی کی تھی جس میں اسے شکست ہوئی اور وہ قید کر لیا گیا اور اب بھی وہ ابرہہ کےساتھ ہی ہے تو حضرت عبدالمطلب کو خیال آیا کہ میں پہلے ذونفر سے ملوں گا وہ یمن کا رہنے والا ہے اور بادشاہ کی عادات اور حبشہ قوم کے خصائل سے اچھی طرح واقف ہے ممکن ہے وہ اس بارہ میں مجھے کوئی مفید مشورہ دے سکے۔چنانچہ جب کیمپ میں پہنچے تو انہوں نے پتہ لیا کہ ذونفر کہاں ہے۔وہ بے شک قید تھا مگر اس زمانہ کی قید اس طرح نہیں ہوتی تھی کہ مجرموں کو کوٹھڑیوں میں بند رکھا جاتا بلکہ صرف ان کی نگرانی ہوتی تھی۔جیسے آج کل نظربندوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔حضرت عبدالمطلب لوگوں سے پتہ دریافت کرتے ہوئے ذونفر کے پاس پہنچے اور اس سے کہا کہ ذونفر تم کو کعبہ اور کعبہ والوں کی کوئی پروا نہیں یعنی اگر تمہارے دل میں کعبہ کی محبت ہوتی یا ہماری دوستی کا تمہیں کچھ پاس ہوتا تو تم کوشش کرتے کہ یہ حملہ ٹل جائے ذونفر نے جواب میں کہا کہ ایک قیدی جسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ شام تک زندہ رہے گا یا نہیں اور جسے شام کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ صبح تک زندہ رہے گا یا نہیں، اس کی پروا یا عدم پروا کا سوال ہی کیا ہو سکتا ہے؟ میں تو اس وقت کلی طو رپر بادشاہ کے رحم پر ہوں۔وہ چاہے تو شام کو قتل کروا دے اور چاہے تو صبح کو قتل کروا دے۔باقی جو کچھ میں کر سکتا تھا وہ میں نے کیا۔ابرہہ سے میں نے لڑائی بھی کی مگر مجھے شکست ہوئی اور میں قید ہوگیا۔اب میری رائے کا کیا سوال ہے اور میں اس بارہ میں کیا کر سکتا ہوں۔میرے دل کی تو یہی خواہش ہے کہ تم لوگ بچو مگر یہ میرے بس کی بات نہیں۔ہاں میں نے قید کے زمانہ میں شاہی ہاتھی کے مہاوت انیس نامی سے دوستی پیدا کر لی ہے(روح المعانی زیر آیت ھذا) وہ میرا ادب اوراحترام بھی کرتا ہے اگر آپ چاہیں تو میں اس مہاوت سے آپ کو ملوا دیتا ہوں اور اس سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ موقع ملنے پر وہ آپ لوگوں کے متعلق کوئی نیک بات بادشاہ کے کان میں ڈال دے۔پرانے زمانہ میں یہ ایک عام دستور تھا اور ہندوستان میں بھی یہ دستور ایک لمبے عرصہ تک رہا ہے کہ بادشاہ اپنے نوکروں کی بات بہت کچھ مانتے تھے اور ان کی بات کو ردّ کرنا شانِ کبریائی کے خلاف سمجھتے تھے معلوم ہوتا ہے ان میں بھی یہی رواج تھا۔انیس چونکہ بادشاہ کا منہ چڑھا نوکر تھا اور گو مہاوت کا عہدہ بھی بڑا بھاری عہدہ ہوتا ہے