تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 334

حمیری قبیلہ کا تھا اور جس کا نام حیاطہ تھا اور اس کے ذریعہ یہ پیغام بھجوایا کہ میں صرف خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے آیا ہوں تم لوگوں کو کسی قسم کی گزند پہنچانے کا میرا ارادہ نہیں اور چونکہ مکہ والوں سے میری کوئی دشمنی نہیں اس لئے میں نہیں چاہتا کہ تم خواہ مخواہ اپنی جانیں ضائع کرو۔تم اگر ایک طرف ہو جاؤ اور مجھے خانہ کعبہ کو گرا لینے دو تو تم میرے بھائی ہو مجھے تم سے کسی قسم کا بگاڑ مطلوب نہیں(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام امر الفیل و قصۃ النسأۃ )۔یہ سردار جب مکہ پہنچا تو اس نے دریافت کیا کہ مکہ کا سردار آج کل کون ہے۔لوگوں نے حضرت عبدالمطلب کا نام لیا کہ وہ سردار ہیں وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس گیا اور ان کو ابرہہ کا پیغام دیا انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر اس کی ہم سے لڑنے کی نیت نہیں تو ہماری بھی اس سے لڑنے کی نیت نہیں۔پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ہم ہرگز ابرہہ سے لڑائی کرنا نہیں چاہتے۔اور سچائی سے کام لیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ ہم نے غو رکر کے فیصلہ کر دیا ہے کہ ہم میں لڑائی کی طاقت نہیں اس لئے مقابلہ نہ کیا جائے۔ابرہہ جو فوج اپنے ساتھ لایا تھا اس کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ اس کی ۱۲ ہزار کی تعداد تھی اور بعض بیس ہزار بتاتے ہیں(تفسیر ابن کثیر زیر آیت فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ) گویا ایک پورا ڈویژن وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔اور اتنی بڑی فوج سے تو بعض دفعہ ایک ملک کا ملک فتح کر لیا جاتا ہے۔جب محمد بن قاسم ہندوستان میں آئے تو ان کے ساتھ صرف تین ہزار آدمی تھے۔پس چونکہ ابرہہ ایک بھاری فوج لے کر آیا تھا انہوں نے کہا کہ ہم کسی احسان کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ امر واقعہ کے طور پر کہتے ہیں کہ ہم میں اس سے لڑنے کی طاقت نہیں باقی یہ گھر جسے ہم مانتے ہیں اس کے متعلق ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ خدا کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہو اہے اور ہم یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ جو اللہ تعالیٰ کے دوست اور اس کے نبی اور اس کے پیارے تھے انہوں نے اس گھر کو بنایا تھا پس ہم اپنے متعلق تو اقرار کرتے ہیں کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن ہم یہ بھی کہہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اس گھر کو بچانا چاہے تو یہ گھر اس کا ہے اور اس کا ادب اور احترام اس کے ذمہ ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت نہ ہو کہ وہ اس گھر کی حفاظت کرے بلکہ وہ چاہتا ہو کہ اس گھر کو چھوڑ دے اور ابرہہ کے لشکر کو اجازت دے دے کہ وہ اس گھر کو توڑ دے تو اس گھر کو بچانے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔اس پر حیاطہ نے کہا کہ اگر آپ لوگ لڑنا نہیں چاہتے تو بہتر ہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں، ابرہہ نے بھی خواہش کی تھی کہ میں مکہ کے کسی رئیس کو اپنے ساتھ لاؤں آپ میرے ساتھ چل کر ابرہہ پر روشن کر دیں کہ آپ کا ارادہ کسی قسم کی لڑائی کا نہیں اس سے ابرہہ کا دل ٹھنڈا ہو جائے گا اور ممکن ہے وہ خانۂ کعبہ کو گرانے کا ارادہ ترک کر دے۔اس پر حضرت عبدالمطلب نے اپنے لڑکوں اور بعض رؤوسا کو ساتھ لیا اور ابرہہ سے ملنے کے لئے مغمس مقام