تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 333
جانوروں کو بھی ہانک کر اپنے ساتھ لے آیا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام امر الفیل و قصۃ النسأۃ)۔مکہ والوں کی بڑی جائیداداونٹ تھی۔گھوڑا عرب میں بہت کم ہوتا ہے۔۱۹۱۲ء میں جب میں حج کے لئے گیا تو سارے مکہ میں صرف تین چار گھوڑے تھے اب میں نہیں کہہ سکتا کہ وہاں کیا حالت ہے۔عرب کا گھوڑا جو دنیا میں مشہور ہے وہ مشرق کے علاقہ میں ہوتاہے یعنی نجد اور اس کے اطراف میں شام وغیرہ میں بھی لوگ گھوڑے رکھتے ہیں لیکن حجاز میں گھوڑے کا بہت کم رواج ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چارہ نہیں ہوتا۔اونٹ تو درختوں کے پتے اور کانٹے وغیرہ کھا لیتا ہے مگر گھوڑا یہ چیزیں نہیں کھا سکتا اس لئے عرب کی بڑی جائیداد اونٹ ہی ہوتی ہے اور پرانے زمانہ میں بھی یہی ان کی جائیداد تھی۔جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے کہ وہ ایک آدمی کو اس غرض کے لئے مقرر کر دیتے ہیں کہ وہ جانوروں کو باقاعدہ باہر لے جائے اور پھر گھروں میں شام کو واپس لے آئے اور ماہوار اسے کچھ رقم دے دیتے ہیں یہی دستور مکہ میں بھی تھا۔لیکن اونٹوں کے متعلق یہ دستور ہے کہ انہیں روزانہ شام کو واپس نہیں لاتے بلکہ چھ چھ سات سات دن یا اس سے بھی زیادہ باہر رکھتے ہیں البتہ کبھی کبھی وہ مالک کو دکھانے کے لئے لے بھی آتے ہیں۔مکہ سے دو دو تین تین منزل پر جہاں کچھ درخت اور کانٹے وغیرہ ہیں وہ اپنے جانور بھیج دیتے تھے۔اسی دستور کے مطابق اس روز بھی مکہ والوں کے جانور باہر گئے ہوئے تھے جب اسود حالات معلوم کر کے واپس آنے لگا تو وہ ان اونٹوں کو بھی ہانک لایا۔ان میں حضرت عبدالمطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔جب یہ لوگ خبر رسانی کے لئے مکہ کے قریب آئے اور انہوں نے حالات معلوم کئے تو مکہ والوں نے سمجھ لیا کہ اب حملہ سر پر پہنچ گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک اجتماع کیا جس میں کنانہ ھذیل اور قریش کے بڑے بڑے سردار جمع ہوئے اور انہوں نے غور کرنا شروع کیا کہ ہمیں ابرہہ کا مقابلہ کرنا چاہیے یانہیں۔کنانہ وہ قوم ہے جس میں سے قریش نکلے ہیں۔صرف قریش ہی بنو اسمٰعیل نہیں، بنواسمٰعیل تمام عرب میں پھیلے ہوئے تھے۔قریش صرف کنانہ کے ایک بیٹے کی نسل کا نام ہے۔بہرحال قریش نے اور ھذیل اورکنانہ کے سرداروں نے مل کر مشورہ کیا اور غور کیا کہ کس طرح مقابلہ کیا جائے۔مشورہ میں ہر ایک کی رائے یہی تھی کہ ہم میں لڑنے کی طاقت ہی نہیں اس لئے مقابلہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ یہ ارادہ ترک کر دیا گیا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام امر الفیل و قصۃ النسأۃ)۔میں بتا چکا ہوں کہ ابرہہ اس لئے نہیں آیا تھا کہ وہ عربوں کو کوئی تکلیف پہنچائے یا مکہ والوں کو کوئی سزا دے اس کی غرض صرف یہ تھی کہ خانہ کعبہ کو گرا دے اور عربوں کی توجہ اس مرکز کی طرف نہ رہے اس کے بعد یا تو ان کی توجہ صنعاء کی طرف پھر جائے یا وہ پراگندہ ہو جائیں۔ان کے اکٹھے ہونے کی کوئی صور ت نہ رہے اس نے اسی بات کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ایک خاص آدمی مکہ والوں کی طرف بھجوایا جو