تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 322
کہہ سکتے کہ انہوں نے عمداً یا ارادتاً گرجا کو نقصان پہنچانے کے لئے آگ جلائی تھی۔تاریخ سے صاف ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی کسی غرض کے لئے آگ جلائی تھی مگر اتفاقاً اس روز ہوا تیز چل رہی تھی آگ کی چنگاریاں اڑ کر اصل عمارت تک بھی جا پہنچیں اور انہوں نے گرجا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔بہرحال یہ ایک اتفاق تھا اور ایسے اتفاقات دنیا میں ہوتے ہی رہتے ہیں۔یہ تو نہیں ہوتا کہ ہوا سے پہلے کوئی عہد لے لیتا ہے کہ جب میں آگ جلاؤں تو تُو بھی چل پڑیو۔مگر چونکہ پہلے بھی ایک واقعہ ہو چکا تھا بادشاہ کے دل میں احساس پیدا ہوا کہ یہ جو کچھ ہو اہے شرارتاً ہو اہے اور اس کے دل میں مکہ کا بُغض اور بھی ترقی کر گیا۔اس وقت ابرہہ نے اپنے آدمی بھیج کر عرب کے بعض اچھے اچھے رؤوسا کو جمع کرنا شروع کیا تاکہ بغیر چڑھائی کرنے کے عربوں کو خانۂ کعبہ کی طرف سے ہٹا کر قلیس کی طرف مائل کیا جا سکے۔چنانچہ محمد بن خزاعی اور قیس بن خزاعی جو قبیلۂ خزاعہ کے بڑے سردار تھے ابرہہ کے پاس آئے ابرہہ نے ان سے انعام و اکرام کے وعدے کئے اور ان سے کہا کہ تم عرب میں پھرو اور لوگوں کو توجہ دلاؤ کہ وہ اپنا مرکزی نقطہ صنعاء کے گرجا کو بنا لیں اور خانۂ کعبہ کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لیں(الجامع البیان زیرآیت ھذا)۔حج کے لئے بھی آئندہ قلیس ہی آیا کریں یہ لوگ عیسائی نہیں تھے مگر جیسے انگریزوں کے زمانۂ اقتدار میں کئی مسلمان ان کی خوشامدیں کرتے پھرتے تھے۔یا جہاں بھی کوئی حاکم ہو وہاں بعض لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جو لالچ میں آجاتے ہیں اور حکام کی خوشامدیں کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح ان کو بھی جب انعام و اکرام کے وعدے دیئے گئے تو یہ اس دورہ کے لئے تیار ہو گئے چنانچہ بادشاہ سے ہدایتیں لے کر انہوں نے سیدھا رخ مکہ کی طرف کیا۔یہ شمال کی طرف نکل گئے۔ان کا طریق یہ تھا کہ تمام لوگوں کو جمع کرتے اور پھر انہیں نصیحت کرتے کہ خانۂ کعبہ کو چھوڑو اور صنعاء کے گرجا کی طرف جایا کرو۔اگر ایسا کرو گے تو حاکم قوم سے تمہارے تعلقات ہو جائیں گے اور تم بہت جلد ترقی کر جاؤ گے۔جس وقت یہ دورہ کرتے ہوئے بنوکنانہ کے علاقہ میں پہنچے اور اہل تہامہ یعنی مکہ اور اس کے نواحی میں رہنے والوں کو اطلاع ہوئی کہ دو عرب سردار ابرہہ نے اس پراپیگنڈا کے لئے بھجوائے ہیں کہ اہل عرب خانۂ کعبہ کو چھوڑ دیں اور صنعاء کے گرجا کو اپنا مرکز بنائیں تو انہوں نے ہذیل قبیلہ کے سردار عروہ بن حیاض کو بلوایا اور اسے کہا کہ تم جاؤ اور صحیح صحیح حالات معلوم کر کے آؤ۔آیا واقعہ میں خزاعہ قبیلہ کے سردار محمد بن خزاعی اور قیس بن خزاعی بادشاہ کے کہنے پر اس قسم کا پراپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں کہ خانۂ کعبہ کو چھوڑو اور صنعاء کو اپنا مرکز بناؤ۔وہ لوگ بے شک مشرک تھے اور بتوں کی پرستش کرتے تھے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ انہیں خانۂ کعبہ سے عقیدت تھی۔پھر عقیدت کے علاوہ مکہ کی ساری آمدن ہی خانۂ کعبہ پر تھی اگر خانۂ کعبہ کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ جاتی تو صرف ان کے مذہبی احساسات