تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 314

سے برطرف کر دے گا ابرہہ بہت ہوشیار آدمی تھا جب اسے یہ خبر پہنچی تو اس نے ایک نائی بلوایا اور اپنی پیشانی کے بال منڈوا دیئے اسی طرح ایک بوری لی اور اسے یمن کی مٹی سے بھر دیا۔اس کے بعد اس نے یہ دونوں چیزیں ایک آدمی کے ہاتھ نجاشی کے پاس بھجوا دیں اور ساتھ ہی معافی کا ایک خط لکھا اور معذرت کی کہ ان ان حالات میں یہ واقعہ ہوا ہے۔اگر قصور ہے تو ہم دونوں کا مشترکہ ہے لیکن بہرحال جو کچھ ہوا ہے کسی دھوکے کے ماتحت نہیں ہوا۔ہمارا فیصلہ یہی تھا کہ ہم میں سے جو شخص دوسرے کو مار لے گا وہ یمن کا حاکم بن جائے گا۔اگر میںمارا جاتا تو وہ بادشاہ بن جاتا۔مگر چونکہ لڑائی میں وہ مارا گیا اس لئے اس فیصلہ کے مطابق میں ہی یمن کا حاکم بنا۔اس میں کسی فریب یا دھوکے بازی کا دخل نہیں اور نہ اچانک کسی پر حملہ ہوا ہے بلکہ سوچی سمجھی ہوئی تدبیر اور باہمی فیصلہ کے مطابق ہم نے آپس میں یہ لڑائی کی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس نے لکھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بادشاہ سلامت نے قسم کھائی ہے کہ وہ میری پیشانی کے بال کھینچوائیں گے۔میں اس قسم کو پورا کرنے کے لئے اپنی پیشانی کے بال مونڈ کر حضور کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں اسی طرح مجھے یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ حضور نے قسم کھائی ہے کہ میں یمن کے ملک کو اپنے پاؤں تلے روندوں گا۔اس قسم کو پورا کرنے کے لئے میں یمن کی مٹی ایک بوری میں بھر کر بھجوا رہا ہوں۔آپ اس کو پاؤں تلے روندیں تو آپ کی قسم پوری ہو جائے گی۔باقی جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں آپ کا مطیع اور فرمانبردار ہوں اور مجھے آپ کی غلامی پر فخر ہے۔اس کا یہ طریق کہ اس نے اپنی پیشانی کے بال مونڈ کر بھیج دیئے اور یمن کی مٹی ایک بوری میں بھر کر اس لئے پیش کی کہ بادشاہ اس کو اپنے پاؤں تلے روندے اور اپنی قسم پوری کر لے۔نجاشی کو بہت پسند آیا اور اس نے لکھا کہ ہم تمہیں معاف کرتے ہیں اور تمہیں اپنی طرف سے یمن کا گورنر مقرر کرتے ہیں۔(السیـرۃ النبویۃ لابن ھشام غلب ابرھۃ الاشـرم علی امر الیمن و قتل اریاط) جب ابرہہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے اس خوشی میں کہ بادشاہ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور میری جان بخشی کی ہے فیصلہ کیا کہ میں یمن میں ایک بڑا بھاری گرجا بنواؤں گا۔اتنا بڑا کہ جس کی مثال ان علاقوں میں نہ پائی جائے چنانچہ جب بادشاہ کی طرف سے اسے گورنری پر فائز ہونے کے آرڈر ملے اور ساتھ ہی یہ بھی اطلاع آگئی کہ ہم تمہیں معاف کرتے ہیں تو ابرہہ نے بادشاہ کو شکریہ کی ایک چٹھی لکھی جس میں یہ بھی تحریر کیا کہ آپ نے مجھ پر جو یہ مہربانی کی ہے کہ مجھے یمن کا گورنر مقرر کر دیا ہے اور میرے قصور سے درگذر فرمایا ہے میں نے اس خوشی میں آپ کے اس احسان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے یہ منت مانی ہے کہ میں یمن میں ایک بہت بڑا گرجا بنواؤں گا جس کی مثال اور ممالک میں نہ پائی جائے۔چنانچہ اس منت کو پورا کرنے کے لئے اس نے دور دور سے انجینئر بلوائے۔اچھی لکڑی، اچھا میٹریل اور اچھے رنگساز مہیا کئے اور