تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 310
ہے۔اللہ تعالیٰ اس حکومت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے اصحاب الفیل سے کیا کیا اور کس طرح ہم نے حبشہ کی حکومت کو ہی عرب سے مٹا دیا۔گویا ہم نے صرف ابرہہ اور اس کے لشکر کو ہی شکست نہیں دی بلکہ عرب سے حبشہ کی حکومت ہی مٹا دی تاکہ اس کی طرف سے بار بار حملہ کا خطرہ نہ رہے۔اصحاب الفیل کے واقعہ کی تفصیل تاریخی لحاظ سے اب میں اصحاب الفیل کا واقعہ تاریخوں کے اس نقطۂ نگاہ کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیان کرتا ہوں جو اس کے متعلق میرا ہے۔واقعہ اصحاب الفیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال میں اکثر اور معتبر روایات کے مطابق اور پیدائش سے دس۱۰، پند۱۵رہ، تئیس۲۳، تیس۳۰، چالیس۴۰، پچا۵۰س اور ستر۷۰ سال پہلے مختلف کمزور روایتوں کے مطابق ہوا۔سہیلی کے نزدیک پچاس دن قبل از ولادت اور دمیاتی کے نزدیک پچپن دن قبل از ولادت یہ واقعہ ہوا۔بعض کے نزدیک چالیس دن پہلے اور بعض کے نزدیک ایک ماہ پہلے ہوا۔تفصیل اس واقعہ کی یوں ہے کہ اس واقعہ سے چند سال پہلے یمن پر حمیر کی حکومت تھی (حمیر عرب کی ایک قوم ہے) اور ذونواس حمیری بادشاہ اس علاقہ پر حکومت کر رہا تھا۔ذونواس حمیری بادشاہ کے متعلق بعض مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ وہ مذہباً یہودی ہو گیا تھا۔اور بعض کے نزدیک وہ یہودی نہیں ہوا تھا بلکہ مشرک تھا۔لیکن یہودیوں کی طرف مائل تھا (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔غالباً اس کے یہودی ہونے کا خیال اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ وہ عیسائیوں کا دشمن تھا مگر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہودی ہو گیا ہو۔بہرحال اس کے دل میں عیسائیوں کی سخت دشمنی تھی۔میرا خیال ہے کہ شاید یہ دشمنی اس لئے ہو کہ یمن حبشہ کے ساحل کے مقابل میں ہے۔ممکن ہے قریب ہونے کی وجہ سے اس کا حبشہ سےبگاڑ ہو جایا کرتا ہو۔ایک دفعہ اس نے غصہ میں آکر اپنے ملک کے بیس۲۰ ہزار عیسائی گرفتار کئے اور خندقیں کھود کر ان کو زندہ جلا دیا۔مفسرین کا خیال ہے کہ سورۃ البروج کی آیات قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۔النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۔اِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُوْدٌ۔وَّ هُمْ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُهُوْدٌ۔(البروج:۵تا۸) میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت البروج ۴تا۷)۔اس نے خندقیں کھود کر آگ جلائی اور بیس۲۰ ہزار عیسائیوں کو اس آگ میں زندہ جلا دیا۔صرف ایک شخص جس کا نام دوس ذو ثعلبان تھا وہ بچ کر بھاگ نکلا۔اس وقت عیسائیوں کا تمام دارومدار رومی حکومت پر تھا۔رومی حکومت کے تمام باشندے عیسائی تھے(اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر لفظ بوذنطیہ) اور پھر یہ حکومت اتنی زبردست اور وسیع تھی کہ اس وقت نصف دنیا پر حکومت کر رہی تھی شام اور فلسطین اور