تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 309

قویٰ بالکل ڈھیلے ہو گئے۔اس تباہی میں اللہ تعالیٰ کی جو بہت بڑی حکمت کام کر رہی تھی وہ یہ ہے کہ ایک بھاری حکومت کے کسی لشکر کا تباہ ہو جانا خطرہ کو کم نہیں کرتا بلکہ اور بھی بڑھا دیتا ہے۔اگر کسی چور کو پکڑتے ہوئے کوئی کانسٹیبل مارا جائے تو چوروں کے لئے خطرہ کم نہیں ہو جاتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح اگر بعض لوگ بغاوت کر رہے ہوں اور فوج کا کوئی دستہ ان کا مقابلہ کرتا ہوا مارا جائے تو اس دستے کا مارا جانا خطرہ کم نہیں کرتا بلکہ اور بھی بڑھا دیتا ہے کیونکہ اس کے بعد حکومت اپنی ساری طاقت اس قلعہ کو مٹانے کے لئے صرف کر دیا کرتی ہے۔اگر صرف ابرہہ مارا جاتا اگر صرف اتنا اثر ہوتا کہ اس کے لشکر کو نقصان پہنچ جاتا اور وہ شکست کھا کر بھاگ جاتا تو پیچھے یمن کی حکومت موجود تھی، حبشہ کی حکومت موجود تھی،جس کا وہ گورنر تھا اور یہ حکومتیں اپنی ساری طاقتیں عرب کی تباہی میں لگا سکتی تھیں اور اگر ایسا ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سخت خطرہ میں پڑجاتی۔کیونکہ اگلے سال پھر عیسائی حکومت کا کوئی لشکر مکہ پر حملہ آور ہو جاتا۔اس سے اگلے سال پھر کوئی حملہ کر دیتا۔یمن میں ان کا اڈہ تو قائم ہی تھا وہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بڑی آسانی کے ساتھ اپنے لشکر بھیج کر عربوں کو تباہ کر سکتے تھے۔اگر ایسا ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں پلنا، مکہ والوں میں چلنا پھرنا، مکہ والوں میں جوان ہونا اور پھر مکہ والوں کا آپؐ کے بلند کیریکٹر کو دیکھنا اور دعائے ابراہیمی کو اس رنگ میں پورا ہوتے دیکھنا کہ مکہ والوں میں سے ہی ایک شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے قطعی طور پر ناممکن ہوجاتا۔وہ قوم جسے ایک حکومت کے بھاری لشکروں کا متواتر سامنا کرنا پڑتا اوّل تو وہ پراگندہ ہو جاتی اور پھر اگر پراگندہ نہ بھی ہوتی تب بھی اسے یہ فرصت کہاں مل سکتی تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیریکٹر کو دیکھے اور آپؐکی زندگی کی ایک ایک حرکت میں آپؐکی صداقت کے آثار مشاہدہ کرے اس طرح اسلام کی تمام بنیاد خطرہ میں پڑ جاتی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ہی نہیں بلکہ اس قوت کو ہی کچل دیا جو اس کے پیچھے کام کر رہی تھی اور ان کو ایسی مار پڑی اور عربوں میں اتنی دلیری پیدا ہو گئی کہ انہوں نے بغاوتیں شروع کر دیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایران نے اس جگہ پر آکر قبضہ کر لیا اور نجاشی کی حکومت جاتی رہی(البدایۃ والنـھایۃ ذکر خروج الملک من الـحبشۃ)۔چونکہ مکہ والوں سے ایرانی حکومت کا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔اس لئے وہ چپ کر کے بیٹھ گئی اور جن کو مکہ والوں پر غصہ آسکتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی جڑیں تک اکھاڑ کر پھینک دیں۔اس کے بعد حبشہ میں بے شک نجاشی کی حکومت قائم رہی مگر یمن میں اس کا جو اڈہ قائم تھا وہ نہ رہا اور چونکہ وہ یمن سے ہی حملہ کر سکتا تھا اور اب یمن پر ایران قابض ہو چکا تھا۔اس لئے عرب کو اس کی طرف سے حملہ کا کوئی خطرہ نہ رہا۔پس اصحاب الفیل سے نجاشی کی حکومت مراد ہے۔ہاتھی عرب میں نہیں ہوتا تھا بلکہ حبشہ سے آتا تھا پس اصحاب الفیل سے مراد بھی حبشہ کی حکومت ہی