تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 308

طرف رَبُّکَ میں اشارہ کیا گیا ہے پس رَبُّکَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ خانۂ کعبہ سے بھی زیادہ اصحاب الفیل کی تباہی کا موجب درحقیقت تیرا احترام تھا۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ میں اصحاب الفیل کے لفظ کے استعمال کرنے میں حکمت ایک اور بات جو یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ ابرہہ نے بے شک خانۂ کعبہ کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر اس کے لشکر نے یہ ارادہ نہیں کیا تھا۔اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ چلو اور وہ چل پڑے۔مگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے اصحاب الفیل کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا۔آخر یہ زیادتی بلاوجہ تو نہیں۔اللہ تعالیٰ کے لئے کیا یہ مشکل تھی اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَبْرَھَۃ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے ساتھ کیا کیا۔یا کہہ دیتا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِـمَلِکِ الْیَمَنِ۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یمن کے بادشاہ کے ساتھ کیا کیا۔وہ ایسا کہہ سکتا تھا مگر خدا نے وہ نہیں کہا جو سیدھی بات تھی بلکہ چکر دے کر یہ کہا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ یہاں کوئی نیا نکتہ بیان کیا گیا ہے اور وہ اسی امر کا اظہار ہے کہ ہم نے صرف ابرہہ کو ہی تباہ نہیں کیا بلکہ ابرہہ کی قوم کو بھی تباہ کر دیا۔اصحاب الفیل صرف وہ نہیں تھے جو ابرہہ کے ساتھ تھے بلکہ فیل والی قوم یمن کی حاکم قوم تھی جس کی تباہی کا اس آیت میں ذکر آتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر کسی لشکر کی توپیں توڑ دی جائیں یا کسی بٹالین کو تباہ کردیا جائے توہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے توپوں والوں کو تباہ کر دیا۔کیونکہ توپوں والی حکومت یا تو انگریزوں کی ہے یا فرانسیسیوں کی ہے یا امریکنوں کی ہے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے فلاں بٹالین کو تباہ کر دیا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے توپوں والوں کو تباہ کر دیا۔جب ہم یہ کہیں گے کہ ہم نے توپوں والوں کو تباہ کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ایسی ضرب لگائی کہ صرف وہی لشکر تباہ نہیں ہوا جو لڑنے آیا تھا بلکہ ایسی ضرب لگائی کہ ان کے پیچھے جو ملکی قوت تھی اسے بھی توڑ دیا۔اس مثال کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہاں خالی ابرہہ اور اس کے لشکر کی تباہی کا ذکر نہیں کیونکہ اصحاب الفیل صرف ابرہہ اور اس کا لشکر نہیں تھا بلکہ اصحاب الفیل وہ قوم تھی جو یمن پر حکومت کر رہی تھی۔اللہ تعالیٰ اس ساری قوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے ابرہہ کو ہی نہیں مارا بلکہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایسی زک پہنچائی کہ جس کے ساتھ یمن میں نجاشی کی حکومت بھی بالکل فنا ہو گئی۔یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ اس میں کیا حکمت ہے۔بہرحال اصحاب الفیل کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ صرف ابرہہ اور اس کا لشکر تباہ نہیں ہوا بلکہ ان کی وہ پچھلی طاقت جو یمن میں تھی وہ بھی تباہ ہوگئی اور اس تباہی کا اتنا اثر پڑا کہ عیسائیوں کے