تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 301

مضمون بیان ہو رہا ہے اس سے میں اپنے ایمان اور عرفان کے لحاظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر وہ اعلیٰ درجے کا ایمان رکھنے والا ہے تو وہ اس سے ایسا فائدہ اٹھاتا ہے کہ وہ سورۃ اس کے لئے ویسی ہی بن جاتی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نازل ہوئی تھی اور اگر وہ دشمنی کرتا ہے تو کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ساری کی ساری سورۃ بےکار اور رائیگاں چلی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس کے حق میں ضائع ہو جاتی ہے۔اور اگر وہ درمیانی درجہ کا مومن ہو تو سورۃ کا مضمون صرف ایک حد تک اسے فائدہ بخشتا ہے پورا فائدہ نہیں دیتا۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِؕ۰۰۲ (اے محمد صلعم) کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی (استعمال کرنے) والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔تفسیر۔اَلَمْ تَرَ اصل میں اَلَمْ تَرٰی ہے لَمْ جب فعل مضارع پر آتا ہے تو اگر اس کے آخرمیں یا ہو تو وہ گر جاتی ہے۔اسی وجہ سے اَلَمْ تَرٰی کی بجائے صرف اَلَمْ تَرَ رہ گیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کیا تو نے دیکھا نہیں۔اصحاب الفیل کے ہلاک ہونے کے وقت کا تاریخ سے تعیّن یہاں دیکھنے سے دل کی آنکھوں سے دیکھنا اور بصیرت کی راہ سے دیکھنا مراد ہے آنکھوں سے دیکھنا مراد نہیں ہو سکتا(لسان العرب ) کیونکہ جس واقعہ کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے کا ہے۔کتنا پہلے کا ہے؟ اس بارہ میں اختلاف ہے بعض مورخ کہتے ہیں یہ ستّر سال پہلے کا ہے۔بعض مؤرخ کہتے ہیں یہ پچاس سال پہلے کا ہے۔بعض مؤرخ کہتے ہیں یہ چالیس سال پہلے کا ہے۔بعض مؤرخ کہتے ہیں یہ تیس سال پہلے کا ہے۔بعض مؤرخ کہتے ہیں یہ تئیس سال پہلے کا ہے۔بعض مؤرخین اسے پندرہ سال پہلے کا قرار دیتے ہیں اور بض مؤرخین اسے دس سال پہلے کا قرار دیتے ہیں(روح المعانی و مـجمع البیان زیر آیت ھذا)۔لیکن صحیح روایت جس کے قرائن بعض دوسری تاریخوں سے بھی ملتے ہیں یہ ہے کہ درحقیقت یہ اسی سال کا واقعہ ہے جس سال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے(مجمع البیان زیر آیت ھذا) جو تاریخی شہادتیں کثرت سے مل جاتی ہیں اور جن کے قرائن دوسری تاریخوں یا دوسرے ملکوں کی تاریخوں سے بھی ملتے ہیں وہ اسی کی تائید کرتی ہیں۔یہ واقعہ محرم میں ہوا تھا جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی سال ربیع الاوّل میں ہوئی ہے(شرح مواھب اللدنیۃ الزرقانی، عام الفیل و قصۃ ابرھۃ) آگے کچھ پیدائش کی تاریخوں کے متعلق اختلاف ہے اور کچھ محرم کی تاریخوں کے