تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 300

پورے طور پر کسی کو بے ایمان نہیں کہہ سکتے۔کسی کو خدا کے کلام پر ایمان ہوتاہے اور کسی کو خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت پر ایمان ہوتا ہے۔پاگل بے شک مستثنیٰ ہوتا ہے وہ قانون قدرت کا بھی لحاظ نہیں کرتااور خدا تعالیٰ کے کلام کا بھی پاس نہیں کرتا۔مگر اس کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی تمام مادی آدمی آدھی بات پر ضرورایمان رکھتے ہیں یعنی گو انہیں خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان نہیں ہوتا مگر وہ اس کے فعل پر ضرور ایمان رکھتے ہیں بلکہ بعض دفعہ مومنوں سے بھی زیادہ وہ خدا تعالیٰ کےفعل پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔بہرحال کمزور ایمان والے اور مادی اور دہریہ انسانوں کے کاموں پر تدبیر غالب ہوتی ہے، اور تقدیر کا حصہ کم ہوتاہے گو ہوتا ضرور ہے مثلاً جب وہ کھانا کھاتا ہے تو ان کا معدہ کھانے کو ہضم کرتا ہے اور یہ تقدیر ہی کا فعل ہے اس نے تو اتنا ہی کیا تھا کہ ارادہ کیا اورمنہ میں لقمہ ڈال لیا۔باقی جو کچھ کام کیا وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہی نے کیا۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ دہریہ سے دہریہ بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر نہیں ہوتا۔ایک دہریہ کی زبان پر بھی میٹھا رکھ دو تو باوجود اس کے کہ وہ خدا کو گالیاں دیتا ہو گا مگر خدا کو گالیاں دینے والی زبان بھی اس میٹھے کو میٹھا ہی چکھے گی غرض تقدیر ہر ایک شخص کے کام کے ساتھ کام کر رہی ہوتی ہے مگر تدبیر کا پہلو غالب ہوتا ہے اور تقدیر کا پہلو کمزور ہوتاہے سوائے اہل اللہ کے کہ ان کا حساب اس کے الٹ ہوتا ہے۔ان دو کےعلاوہ جو درمیانی درجہ کا مومن ہوتا ہے خواہ وہ کلامِ الٰہی کو ماننے والا ہو یا نہ ماننے والا ہو جیسے عیسائی کہ وہ بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ عیسائی مذہب کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ اسلام پر ایمان نہیں لائے۔اسی طرح یہودی بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ یہودی مذہب کو تسلیم کرتے ہیں۔ہندو بھی اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں کیونکہ وہ ہندو مذہب کو تسلیم کرتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے خواہ وہ کلام الٰہی کو ماننے والے ہوں یا نہ ہوں دونوں چیزوں کا امتزاج ہوتا ہے اور تقدیر اور تدبیر ان کے لئے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ایسے لوگ دعائیں بھی کرتے ہیں خواہ وہ سچے مذہب پر نہ ہوں جیسے عیسائی اور یہودی اور ہندو سب دعاؤں سے کام لیتے ہیں اور تدبیر سے بھی کام لیتے ہیں گویا تقدیر اور تدبیر کا ایک لطیف امتزاج ان دونوں کے لئے ہوتا ہے۔غرض مومنِ کامل جو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے اس کے کاموں میں تقدیر کا پہلو غالب ہوتا ہے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے اس کے کاموں میں تدبیر کا پہلو غالب ہوتاہے اور جو درمیانی درجہ کا آدمی ہوتا ہے اس کے کاموں میں تقدیر اور تدبیر دونوں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ مضمون ہے جس کو بِسْمِ اللّٰهِ ظاہر کرتی ہے اور چونکہ ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ آتی ہے۔اس لئے جب انسان بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھتا ہے تو وہ اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ جو کچھ آگے